"RKC" (space) message & send to 7575

خوف کا کمال

آپ کا کیا خیال ہے کہ اسرائیل‘ ایران یا امریکہ کے درمیان کیا چیز مشترک ہے جس کو لے کر یہ تینوں جنگ لڑ رہے ہیں؟ اس سے بڑھ کر ایران‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ کویت‘ قطر اور دیگر ملکوں کے درمیان کیا ایسا سلسلہ ہے جس کی وجہ سے ان کے درمیان تعلقات خراب ہیں بلکہ بات اب خرابی سے نکل کر جنگوں اور حملوں تک پہنچ چکی ہے؟
اس سے پہلے کہ اس سوال کا جواب میں اپنی سمجھ کے مطابق دینے کی کوشش کروں مجھے میکاولی کی شہرہ آفاق کتاب ''دی پرنس‘‘ کا ایک باب یاد آرہا ہے۔ اس میں اتالیق شہزادے کو کہتا ہے کہ اگر کل کلاں تمہیں یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ تمہاری رعایا تم سے محبت کرے یا تم سے ڈرے‘ تو تم خوف سے حکومت کرنے کو ترجیح دینا۔ رعایا کو اگر آپ کا خوف ہو تو وہ آپ کے خلاف کوئی ایک بات بھی منہ سے نکالتے ہوئے ڈرتی ہے‘ بغاوت کا سوچنا تو دور کی بات ہے۔ تمہارا خوف انہیں دبائے رکھے گا۔ تم رعایا کے ساتھ محبت کے چکر میں نہ پڑ جانا ورنہ پچھتاؤ گے۔ اس لیے تاریخ میں اکثر بادشاہوں نے رعایا پر اپنے خوف‘ دہشت اور قتل و غارت کے ساتھ حکمرانی کی۔ جو بادشاہ ظالم تھے وہ لمبا عرصہ حکمران رہے‘ جو رحمدل بادشاہ تھا اس کے اپنے ہی قریبی ساتھیوں یا سرداروں نے بغاوت کر کے اسے قتل کر ڈالا بلکہ اس کے پورے خاندان کو ختم کر دیا۔
انگلینڈ کے بادشاہ ہنری ہشتم کو ہی دیکھ لیں جس نے ظلم کی حدیں عبور کیں‘ اپنی تین بیویوں تک کو قتل کرایا‘ کسی مخالف کو معاف نہ کیا اور سب کے سر قلم کراتا چلا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ جب بوڑھا ہوا تو اس کے بدن سے اتنی بدبو آتی تھی کہ کوئی اس کے قریب نہیں جا سکتا تھا لیکن حکومت اس نے خوف اور دہشت کے ساتھ کی تھی۔ اس طرح دیکھا جائے تو ہندوستان میں دلّی سلطنت پر تین سو سال تک مسلمانوں نے حکومت کی۔ اس دوران کل 33 بادشاہ گزرے۔ ان میں سے تین بادشاہ ایسے تھے جو رحمدل یا نرم دل کے مالک تھے‘ تیس حکمران ویسے ہی ظالم اور بے رحم تھے جیسے ایک بادشاہ کو ہونا چاہیے۔ اندازہ کریں تین سو سال میں صرف تین بادشاہ رحم دل تھے۔ مطلب ایک سو سال میں صرف ایک بادشاہ اچھا نکلا اور اس کا دور بھی کم سے کم رہا۔ دیکھا جائے تو ایک بادشاہ کو حکومت کیلئے اوسطاً دس سال سے بھی کم عرصہ ملا اور بادشاہ بننے کیلئے کتنی جنگیں لڑیں‘ خون بہایا‘ قتل و غارت کی‘ اپنے ہی خاندان کا لہو بہایا‘ جیسے علاء الدین خلجی نے اپنے سگے چچا اور سسر جلال الدین خلجی کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔
علاء الدین اور جلال الدین کی کہانی بھی سیزر اور بروٹس کی کہانی سے کم دردناک نہیں۔ بس ان دونوں چچا بھتیجے کو یہاں ہندوستان میں کوئی شیکسپیئر نہ مل سکا جو اس دھوکے کو عظیم شاہکار کی شکل دیتا‘ جیسے شیکسپیئر نے جولیس سیزر ڈرامہ لکھ کر ان کرداروں کو امر کر دیا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بروٹس دراصل سیزر کا بیٹا تھا۔ وہ اس کی محبوبہ کا بیٹا تھا جس نے اسے خنجر مارا تھا جس پر سیزر نے شکستہ دل کے ساتھ کہا: میرے دوست تم بھی؟ روم میں اسے دوست سے زیادہ سیزر کا بیٹا سمجھا جاتا تھا۔ یہی ملا جلا منظر جلال الدین خلجی پر بھی گزرا جب اس کے سگے بھتیجے علاء الدین نے اپنے خیمے میں داخل ہوتے اپنے چچا کو گلے ملتے وقت تلوار سینے میں گھونپ دی ۔ وہ چچا جس نے اپنے اس بھتیجے کو بچپن سے پالا تھا اور اپنے دل کا ٹکڑا‘ اپنی بیٹی کی اس سے شادی کی تھی‘ وہ وہیں کھڑا اپنے سینے سے لہو کی دھاریں بہتا دیکھتا رہا۔ اسے یقین نہیں آیا کہ علاء الدین نے اس پر تلوار کا وار کیا تھا۔ جب علاء الدین خلجی دلّی کے باہر جنگی مہم سے لوٹ کر واپس اپنی فوج کے ساتھ خیمہ زن ہوا تو جلال الدین کے قریبی سرداروں کا ماتھا ٹھنکا کہ ارادے ٹھیک نہیں لگتے۔ جلال الدین کو بتایا گیا تو وہ بولا: یہ کیا بات ہوئی‘ علاء الدین تو اس کا بچہ ہے۔ بھتیجا نہیں بیٹا ہے کہ اسے میں نے پالا پوسا ہے۔ میری بیٹی اس کے گھر میں ہے۔ وہ بھلا کیوں میرے خلاف کھڑا ہو گا؟ پھر جلال الدین اٹھ کھڑا ہوا اور بھتیجے سے ملنے چل پڑا۔ سب نے منع کیا کہ مت جائیں اس کے ارادے ٹھیک نہیں لگتے۔ جلال الدین یقین ہی نہیں کر سکتا تھا کہ اس کا بھتیجا اس کے خلاف کوئی قدم اٹھائے گا‘ مارنا تو دور کی بات ہے۔ سب کی باتوں کو جھٹلا کر جلال الدین خلجی بغیر محافظوں کے اس سے ملنے گیا کہ بھلا اپنے داماد یا بھتیجے سے کون محافظ لے کر ملنے جائے گا؟ جونہی جلال الدین خلجی خیمے میں داخل ہوا اور آواز دی: علاء الدین کدھر ہو؟ علاء الدین اٹھا اور بغیر کوئی لفظ بولے چچا کو وہیں مار ڈالا۔ ذرا تصور کریں کہ جلال الدین خلجی کا اس وقت مارے حیرانی کے کیا حال ہوا ہو گا۔ اس کے چہرے پر کیا تاثر ابھرا ہو گا۔ ایک لمحے میں اسے لگا ہو گا اس کے سردار ٹھیک کہہ رہے تھے۔ اس کے ساتھ دھوکا ہوا اور کرنے والا اپنا خون تھا۔ وہ علاء الدین کو اپنا بیٹا سمجھ کر آیا تھا لیکن وہ تو ہندوستان کا بادشاہ بننے کا فیصلہ کر چکا تھا اور اس کیلئے اپنے سسر اور چچا کو قتل کرنا ضروری تھا۔
حکمرانی یا بادشاہت کسی کی سگی نہیں ہوتی اور نہ ہی بادشاہ کا کوئی دوست ہوتا ہے۔ بادشاہ کے سب حریف ہوتے ہیں‘ دشمن ہوتے ہیں۔ بادشاہ تھوڑا سا بھی غافل نہیں ہو سکتا کہ ساتھ ہی اس کا کوئی اپنا سگا یا سردار یا دوست آگے بڑھ کر گلا کاٹ دے گا۔ روم کے جنرل سیزر سے لے کر جلال الدین خلجی تک ایک ہی کہانی ہے‘ اور دونوں کا ایک جیسا انجام ہوا ۔ ایک کو مارنے والا اس کی محبوبہ کا بیٹا تھا تو دوسرے کو مارنے والا اس کا داماد تھا۔ ذرا تصور کریں اس عورت پر کیا گزری ہو گی جب اسے بتایا گیا ہو گا کہ اس کے خاوند نے اس کے باپ کو قتل کر دیا۔ وہ باپ جس نے اسے اپنے بچوں کی طرح پال پوس کر بڑا کیا تھا اور اپنی بیٹی اس کو دے دی تھی۔ لیکن اس بیٹے جیسے داماد کیلئے صرف ہندوستان کے تخت پر بیٹھنا اہم تھا‘ سگا چچا یا سسر نہیں۔
بادشاہوں کو خوف صرف اپنے مخالفین سے نہیں ہوتا تھا بلکہ ان اللہ والوں سے بھی ہوتا تھا جو اُن سے زیادہ عوام میں مقبول ہوتے تھے۔ مقبولیت کا خوف بھی قتل کا سبب بنتا تھا۔ غیاث الدین تغلق کو ہی دیکھ لیں جس نے حضرت نظام الدین اولیاء کو اپنے دربار میں بلایا۔ انہوں نے انکار کیا تو تغلق جنگی مہم پر جانے سے پہلے دھمکی دے کر گیا کہ واپسی پر نبٹ لوں گا۔ غیاث الدین کو یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ بادشاہ تو وہ تھا لیکن نظام الدین اولیاء کا اثر و رسوخ اس سے زیادہ ہے۔ حضرت کو یہ پیغام پہنچایا گیا لیکن وہ مسکرا کر چپ رہے۔ جب غیاث الدین تغلق دلّی کے قریب پہنچا اور حضرت کو فکر مند مریدوں نے بادشاہ کی آمد کی اطلاع دی تو مسکرا کر انہوں نے وہ تاریخی جواب دیا تھا کہ: ہنوز دلّی دور است۔ وہی ہوا کہ غیاث الدین زندہ سلامت دلّی داخل نہ ہو سکا تھا۔ اس کو خوش آمدید کہنے کیلئے جو پویلین تعمیر کیا گیا تھا وہ گر گیا جس میں وہ جاں بحق ہو گیا۔ اس کی موت کو حضرت نظام الدین اولیاء کی کرامت سے تعبیر کیا گیا کہ وہ اللہ کے اس نیک بندے کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا ۔ غیاث الدین جو پانچ سال حکمران رہا اور تغلق خاندان کی حکومت کی بنیاد رکھی ‘ وہ بھی اللہ کے نیک بندے سے خوفزدہ ہوگیا اور ان کی جان لینے پر تل گیا ۔ تو کیا جب خوف ایک حد سے بڑھ جائے تو پھر انسان دوسرے کی جان لینے پر تل جاتا ہے؟
کیا امریکہ‘ اسرائیل‘ ایران یا خلیجی ریاستوں کی طویل دشمنی اور ان جنگوں کے پیچھے بھی وہی خوف ہے؟ کون کس سے کیوں خوفزدہ ہے‘ یہ لمبی کہانی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں