"AIZ" (space) message & send to 7575

علاج معالجہ اور شرعی تعلیمات

ہر انسان ہمیشہ تندرست رہنا چاہتا ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگوں کو زندگی میں مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان بیماریوں کا علاج دنیا میں مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ ایلوپیتھک‘ ہومیو پیتھک اور یونانی طب پوری دنیا میں علاج کے معروف طریقے ہیں۔ اس کے علاوہ آکو پنکچر کا طریقۂ علاج بھی دنیا میں معروف ہے۔ آج سے چند دہائیاں قبل ملتان کے ایک حکیم نے علاج بالغذا کے طریقے پر بھرپور توجہ دی اور یہ طریقۂ علاج حکمت کی دنیا میں ایک انقلابی قدم ثابت ہوا۔ آج بہت سے معروف حکیم اس طریقے سے بیماریوں کا علاج کر رہے ہیں۔ اسی طریقۂ علاج سے ملتا جلتا طریقہ ڈائٹ اور نیوٹریشن پلان کے تحت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا جا رہا ہے اور بہت سے ماہرین اس طریقۂ علاج پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔
علاج کرانا نبی کریمﷺ کی سنت سے ثابت ہے اور آپﷺ نے اپنی امت کی علاج ومعالجے کے ضمن میں بہت خوبصورت رہنمائی فرمائی ہے۔ نبی کریمﷺ کی ایک حدیث پاک سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کسی بھی بیماری کو لاعلاج نہیں رکھا۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ''اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو‘‘۔ نبی کریمﷺ نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے اس حکم پر بھرپور انداز میں عمل کیا کہ کھائو اور پیو اور اسراف نہ کرو۔ نبی کریمﷺ‘ آپ کے اہلِ خانہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کھانے پینے کے حوالے سے سادگی اور اعتدال سے کام لیا کرتے تھے۔ نبی کریمﷺ کے طبی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے امام ابن قیمؒ نے طبِ نبوی کے عنوان سے ایک جامع کتاب مدون کی ہے جس کو پڑھ کر انسان بہت سی بیماریوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
مذکورہ بالا نکات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان کو اپنی بیماریوں کا علاج کرانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ سے شفایابی کی امید بھی رکھنی چاہیے۔ بیماریوں کے علاج کیلئے جہاں مختلف طبی طریقے اختیار کرنا ضروری ہے‘ وہیں کتاب وسنت کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ بہت سی روحانی تدابیر کو اختیار کر کے بھی انسان کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا اور ان پر قابو پا سکتا ہے۔ اس حوالے سے بعض اہم تدابیر درج ذیل ہیں:
1۔ دعا: جب انسان بیمار ہوتا ہے تو اسے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں کثرت سے دعا مانگنی چاہیے۔ سورۃ الانبیاء میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی ایک بیماری کا ذکر کیا۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے بیماری کے طول پکڑنے کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آ کر دعا مانگی تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی بیماری کو دور فرما دیا۔ چنانچہ ہمیں قبولیت کے اوقات میں شفایابی کیلئے دعا مانگتے رہنا چاہیے۔
2۔ توبہ واستغفار: جب انسان کثرت سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی پریشانیوں اور تکالیف کو دور کر دیتے ہیں۔
3۔ تقویٰ: سورۃ الطلاق میں مذکور ہے کہ جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تنگیوں کو دور فرما دیتے ہیں۔
4۔ توکل: سورۃ الطلاق ہی میں اللہ تعالیٰ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ جب انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں۔
5۔ قرآن مجید کی تلاوت: قرآن مجید کی تلاوت اور دَم سے بھی انسان کی بیماریاں دور ہوتی ہیں۔ گو کہ مکمل قرآن مجید ہی شفا ہے لیکن قرآن مجید کے بعض حصوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے خصوصی تاثیر رکھی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم حصوں پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ (الف) سورۃ الفاتحہ: سورۃ الفاتحہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جملہ امراض کی شفا رکھی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کے چند صحابہ در حالتِ سفر عرب کے ایک قبیلہ پر گزرے۔ قبیلہ والوں نے ان کی ضیافت نہیں کی۔ کچھ دیر بعد اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا۔ اب قبیلہ والوں نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کے پاس کوئی دوا یا کوئی دم کرنے والا ہے؟ صحابہ کرام نے کہا کہ تم لوگوں نے ہمیں مہمان نہیں بنایا اور اب ہم اس وقت تک دَم نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اس کی مزدوری نہ مقرر کر دو؛ چنانچہ ان لوگوں نے چند بکریاں دینا منظور کر لیں پھر (حضرت ابوسعید خدریؓ) سورۃ الفاتحہ پڑھنے لگے اور اس پر دَم کرنے میں لعاب بھی اس کے زخم پر لگانے لگے۔ اس سے وہ شخص ٹھیک ہو گیا۔ چنانچہ قبیلہ والے بکریاں لے آئے لیکن صحابہ کرام نے کہا کہ جب تک ہم نبی کریمﷺ سے اجازت نہ لے لیں‘ یہ بکریاں نہیں لے سکتے۔ پھر جب آنحضورﷺ سے پوچھا گیا تو آپﷺ مسکرائے اور فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ سورۂ فاتحہ سے دم بھی کیا جا سکتا ہے‘ ان بکریوں کو لے لو‘‘۔ سنن ابودائود میں حضرت علاقہ بن صحار تمیمیؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک قوم کے پاس سے گزرے تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا: تم اُس شخص (رسول اللہﷺ) کے پاس سے خیر ( قرآن اور ذکر اللہ ) لے کر آئے ہو؛ چنانچہ ہمارے اس شخص پر دَم کر دو۔ پھر وہ لوگ ان کے پاس ایک مجنون (دیوانے) کو لائے جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ انہوں نے اسے تین دن تک صبح شام سورۂ فاتحہ کا دم کیا۔ پھر وہ ایسے ہو گیا جیسے کہ بندھن سے کھول دیا گیا ہو۔ ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا تو وہ نبیﷺ کے پاس آئے اور یہ سب بیان کیا۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''کھا لو‘ قسم میری عمر کی ! لوگ باطل جھاڑ پھونک سے کھاتے ہیں اور تم نے حق سچ دم سے کھایا ہے‘‘۔ مذکورہ بالا دونوں احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سورۃ الفاتحہ بیک وقت جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا علاج ہے۔ (ب) آیت الکرسی: آیت الکرسی قرآن مجید کی سب سے عظیم آیت ہے۔ اس کی تلاوت کی وجہ سے شیطانی اثرات دور ہو جاتے ہیں۔ (ج) معوذتین: قرآن مجید کی آخری دو سورتوں سے انسان کے امراض اور خوف دور ہوتے ہیں‘ بالخصوص شیطانی اثرات اور جادو کے خلاف اس کے شفائیہ اثرات مسلّم ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رویت ہے کہ رسول اللہﷺ جب بیمار پڑتے تو اپنے اوپر معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) پڑھ کر دَم کر لیا کرتے تھے اور اپنے جسمِ اطہر پر اپنے ہاتھ پھیر لیا کرتے تھے۔ پھر جب وہ مرض آپﷺ کو لاحق ہوا جس میں آپ کا وصال ہوا تو میں معوذتین پڑھ کر آپﷺ پر دم کیا کرتی تھی اور ہاتھ پر دم کر کے حضور اکرمﷺ کے جسم پر پھیرا کرتی تھی۔
6۔ حجامہ: احادیث طیبہ میں جسم کے مختلف حصوں سے فاسد خون کے اخراج کے لیے حجامہ کا طریقہ مذکور ہے۔ اس میں بھی بہت سی بیماریوں کا علاج ہے۔
7۔ شہد‘ کلونجی اور آبِ زم زم: قرآن مجید کی سورۃ النحل میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے شہد کو شفا قرار دیا ہے جبکہ احادیث پاک میں کلونجی کو جملہ بیماریوں کا علاج قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح آبِ زم زم کو بھی جس مقصد کیلئے پیا جائے‘ وہ پورا ہو جاتا ہے۔
بعض بیماریوں کے اسباب مادی کے بجائے روحانی ہوتے ہیں مثلاً نظرِ بد کا لگ جانا‘ جادو ٹونا یا شیطانی اثرات کا ہو جانا‘ ایسی صورت میں روحانی طریقۂ علاج ہی مؤثر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ انسان کو بیماریوں کیلئے مادی طریقۂ علاج کے ساتھ ساتھ روحانی طریقہ ہائے علاج پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اس طریقے سے انسان کی بہت سی بیماریاں دور ہو سکتی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام مریضوں کو شفایاب فرمائے، آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں