امریکی ثالثی :لبنان ،اسرائیل کا براہ راست مذاکرات پر اتفاق

امریکی ثالثی :لبنان ،اسرائیل کا براہ راست مذاکرات پر اتفاق

لبنان کو حزب اللہ سے آزاد کروانے پر اتفاق ہو گیا :اسرائیلی سفیر کا دعویٰ ملاقات تعمیری رہی،جنگ بند،خودمختاری کا احترام کیاجائے :لبنانی سفیر

واشنگٹن(اے ایف پی)امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں منگل کو ہونے والی بات چیت کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع  کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ٹامی پیگٹ نے کہا کہ دونوں ممالک کے سفیروں اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات تاریخی تھی۔ امید ہے کہ واشنگٹن کی ثالثی میں طویل المدتی امن معاہدے کی راہ ہموار ہو گی۔اسرائیل اور لبنان دونوں نے حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے ،خیال رہے کہ یہ اجلاس 1993 کے بعد دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان ہونے والی پہلی براہِ راست بات چیت تھی۔ امریکا میں اسرائیل کے سفیر یخئیل لیٹر نے کہا کہ تینوں ممالک کے نمائندوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ ہم سب ایک ہی طرف کھڑے ہیں، اور یہی سب سے مثبت ترین نتیجہ ہے جو ہم اس ملاقات سے اخذ کر سکتے تھے ۔

انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ لبنان کو اُس طاقت کے چنگل سے آزاد کرایا جائے جس پر ایران حاوی ہے اور جسے حزب اللہ کہا جاتا ہے ۔ لبنان کی سفیر ندا حمادہ موواد نے اسرائیلی حکام کے ساتھ واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات تعمیری رہی، انہوں نے متاثرہ لوگوں کے اپنے گھروں کو واپس جانے ، اور لبنان کے تمام علاقے پر مکمل خودمختاری کے احترام پر زور دیا۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں اسرائیل نے حزب اللہ کے تین جنگجو گرفتار کر کے اسرائیل منتقل کر دئیے ۔ اسرائیلی فوج نے لبنانی شہر بنت جبیل کو مکمل طور پر گھیر لیا ہے ، جو جنوبی لبنان میں جاری زمینی حملے میں اہم پیش رفت ہے ۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں