امریکیوں کی اکثریت نے صدر ٹرمپ کی ذہنی حالت کو بدتر قرار دیدیا
صرف 36 فیصد شہری ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن، ریپبلکنز سمیت عوام مزاج اور فیصلہ سازی پر فکرمند 60 فیصد امریکیوں کی پوپ کے بارے میں مثبت رائے ، صرف 16 فیصد نیٹو اتحاد سے علیحدگی کے حامی:سروے
واشنگٹن (رائٹرز) امریکیوں کی اکثریت نے صدر ٹرمپ کی ذہنی حالت کو بدتر قرار دے دیا جبکہ ان کی عوامی مقبولیت اپنی مدتِ صدارت کی کم ترین سطح پر برقرار ہے ۔ ایران سے کشیدگی اور پوپ لیو کے ساتھ تنازع کے دوران بڑی تعداد میں امریکیوں نے صدر کے اور فیصلہ سازی کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے ۔ یہ بات رائٹرز/اِپسوس کے حالیہ سروے میں سامنے آئی۔چھ روز تک جاری رہنے والے اس سروے کے مطابق صرف 36 فیصد امریکی شہریوں نے صدر ٹرمپ کی کارکردگی کی حمایت کی، جو گزشتہ ماہ کے برابر ہے ۔ واضح رہے کہ 20 جنوری 2025 کو حلف اٹھانے کے فوری بعد انہیں 47 فیصد تک حمایت حاصل تھی۔سروے میں انکشاف ہوا کہ ٹرمپ کی اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کے کچھ ارکان بھی ان کے مزاج اور ذہنی چستی پر تشویش رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر صرف 26 فیصد امریکیوں نے انہیں متوازن مزاج قرار دیا۔ ریپبلکنز اس سوال پر منقسم نظر آئے ، جن میں 53 فیصد نے انہیں متوازن جبکہ 46 فیصد نے غیر متوازن قرار دیا، جبکہ صرف 7 فیصد ڈیموکریٹس نے انہیں متوازن مزاج کا حامل کہا۔اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 51 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ کی ذہنی چستی مزید خراب ہوئی ہے ۔ ان میں 14 فیصد ریپبلکنز، 54 فیصد آزاد ووٹرز اور 85 فیصد ڈیموکریٹس شامل ہیں۔سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ امریکی عوام کا مجموعی تاثر پوپ لیو کے بارے میں صدر ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ مثبت ہے ۔
تقریباً 60 فیصد افراد نے پوپ کے بارے میں مثبت رائے دی جبکہ ٹرمپ کے حق میں یہ شرح 36 فیصد رہی۔مزید برآں صرف 16 فیصد امریکیوں نے نیٹو اتحاد سے امریکا کے اخراج کی حمایت کی۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے بھی عوامی رائے پر اثر ڈالا، اور مہنگائی سے نمٹنے کے حوالے سے ٹرمپ کی کارکردگی کی حمایت محض 26 فیصد تک محدود رہی، جو اب تک کی کم ترین سطح ہے ۔اسی طرح صرف 26 فیصد افراد نے ایران میں امریکی فوجی کارروائی کو اس کے اخراجات کے مقابلے میں درست قرار دیا، جبکہ 25 فیصد کا خیال ہے کہ ایسے اقدامات امریکا کو زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔