روس یوکرینی فوجیوں کے قتل کیلئے لڑکیاں بھرتی کررہا:یوکرین
کیف(رائٹرز )یوکرین کے پولیس چیف نے الزام عائد کیا ہے کہ روس یوکرینی نوعمر لڑکیوں کو یوکرینی فوجی اہلکاروں کے قتل کیلئے بھرتی کر رہا ہے۔۔
، یہ دعویٰ ایک 17 سالہ لڑکی کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا ہے جس پر ایک فوجی اہلکار کے قتل کا شبہ ہے ۔یوکرین کی قومی پولیس کے سربراہ ایوان ویہیوسکی کے مطابق اس سال اب تک ٹیلیگرام میسجنگ ایپ کے ذریعے معاہدہ قتل کے چھ کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے ایک کو روک لیا گیا۔پولیس چیف کے مطابق مبینہ روسی ایجنٹس نوجوان لڑکیوں کو میسجنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے تلاش کرتے ہیں اور انہیں آسان پیسوں کا لالچ دے کر اپنے منصوبوں میں شامل کرتے ہیں۔لڑکیوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ڈیٹنگ ویب سائٹس پر یوکرینی فوجی اہلکاروں کو تلاش کریں، ان سے ملاقات کیلئے کرائے کے اپارٹمنٹس حاصل کریں اور بعض اوقات انہیں مشکوک مادہ ملا کر مشروبات میں شامل کرنے کی ہدایت بھی دی جاتی ہے ۔پولیس کے مطابق بعض کیسز میں میتھاڈون جیسے خطرناک مادے کے استعمال کا بھی شبہ ہے جو زیادہ مقدار میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے ۔یوکرینی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک ہزار100سے زائد افراد پر آتش زنی، دہشت گردی یا ریاست سے غداری کے الزامات لگ چکے ہیں۔حالیہ کیس میں ایک 17 سالہ لڑکی کو مغربی علاقے ژیٹومیر میں ایک فوجی اہلکار کو مبینہ زہر دینے کے بعد گرفتار کیا گیا اور تحقیقات جاری ہیں۔