ایران امریکا بالواسطہ مذاکرات اختتام پذیز،علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد دوسرا دور :قطر

ایران  امریکا  بالواسطہ  مذاکرات  اختتام  پذیز،علی  خامنہ  ای  کی  تدفین  کے  بعد  دوسرا  دور :قطر

امریکا اور مشرق وسطیٰ کے 12 ممالک کا آبنائے ہرمز میں بلارکاوٹ تجارت کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق ،تہران کی تنقید بمباری کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں:قالیباف،رہنما کی شہاد ت نئے باب کا آغاز:پزشکیان

دوحہ، تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا ایک اور دور بدھ کے روز دوحہ میں اختتام پذیر ہوگیا، تاہم ایسی کوئی واضح علامت سامنے نہیں آئی کہ دونوں ممالک دیرپا امن کی جانب کوئی بڑی پیش رفت حاصل کر سکے ہیں۔ مذاکرات کا زیادہ تر مرکز وہ امور رہے جن کے بارے میں دونوں فریقوں کا کہنا تھا کہ دو ہفتے قبل ہونے والے عبوری معاہدے میں ان پر اتفاقِ رائے ہو چکا تھا۔ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے دو دن تک دوحہ میں آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی اور ایران کے منجمد مالی وسائل کی بحالی جیسے اہم معاملات پر تبادلۂ خیال کیا، جو ابتدائی معاہدے کے بنیادی نکات میں شامل ہیں۔قطر کی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ مذاکرات کا اگلا دور ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد منعقد ہوگا ۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دوحہ مذاکرات کے دوران جون میں جنگ بندی کیلئے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت سے متعلق معاملات پر مثبت پیش رفت ہوئی اور یہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے نتائج کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش تھی۔

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے پیش رفت کر رہے ہیں تاہم مذاکرات سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام اس دور کی بات چیت کا حصہ نہیں تھا کیونکہ مذاکرات زیادہ تر تکنیکی نوعیت کے معاملات تک محدود رہے ۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکی انتظامیہ اب بھی نیک نیتی کے ساتھ ان مذاکرات پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے ۔انہوں نے کہا جوہری مسئلے پر بات چیت بعد میں شروع کی جائے گی،ان کے مطابق ظاہر ہے کہ ہمیں جوہری معاملے پر تشویش ہے اور ہم اس پر جلد بات چیت شروع کریں گے ۔انہوں نے کہا صدر ٹرمپ کسی واضح اور متعین مقصد کے بغیر ایران میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔امریکی نائب صدر نے خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کی بحالی یا تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش واشنگٹن کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا جن ایرانی جوہری تنصیبات کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے بمباری کا نشانہ بنایا گیا اور نقصان پہنچا، ان کا معائنہ کرنے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو ایران میں صرف دو مقامات تک رسائی دی گئی ہے ، جن میں بوشہر جوہری بجلی گھر بھی شامل ہے ۔انہوں نے کہا رسائی صرف اسی حد تک ہے اور ہم اسی کے پابند ہیں۔باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکی حکام سے مذاکرات میں ایران چھ ارب ڈالرز کے منجمد اثاثوں سے متعلق دستاویز کو حتمی شکل دینے میں کامیاب رہا ہے ۔قطر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی اور ایرانی وفود نے قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔رائٹرز کے مطابق ایک گمنام ذریعے نے بتایا کہ امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، جنہیں وائٹ ہاؤس نے اعلیٰ سطح مذاکرات کے لیے خطے میں بھیجا تھا، ان اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے ۔ایرانی وفد کے سربراہ اور نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے مذاکرات کے اختتام کی تصدیق کی، تاہم کسی بھی فریق نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اختلافات کم کرنے میں کوئی عملی پیش رفت ہوئی یا نہیں۔ادھر امریکا اور مشرق وسطیٰ کے 12 ممالک نے آبنائے ہرمز میں بلارکاوٹ تجارت جاری رکھنے کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے ۔امریکی سینٹرل کمانڈ کی قیادت میں بحرین میں 12 ممالک کے فوجی سربراہان کا علاقائی سکیورٹی اجلاس ہوا جہاں مشرق وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن کے اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی۔

اس موقع پر سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکا علاقائی سلامتی اور استحکام کیلئے خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور امریکا اپنے علاقائی شراکت دار وں کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کا سب سے جدید اور فعال فضائی و میزائل دفاعی نظام چلا رہا ہے ۔ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بحرین میں امریکا کی زیر قیادت علاقائی سکیورٹی اجلاس پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پراپنے بیان میں کہا آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کے اختیار میں ہے ، سینٹ کام کے نہیں، بحرین میں ہونے والا فوجی اجلاس خلیج فارس میں قانونی نظام یا سکیورٹی قائم نہیں کرسکتا۔ خطے میں امن واستحکام، امریکی فوج کے زیرسایہ رہنے سے نہیں آئے گا، یہ علاقائی ممالک کی خودمختاری،نئی جغرافیائی حقیقتوں کو تسلیم کرنے اور خطے سے امریکی فوجی انخلا، اس کی مداخلت ختم کرنے سے ہی ممکن ہوگا۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات سے قبل اپنے پیغام میں کہا علی خامنہ ای کی شہادت کسی سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے باب کا آغاز ہے ۔ ایران اپنی قومی خودمختاری، بنیادی اصولوں اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھے گا اور ملک کی قیادت عوام کے اعتماد اور قومی اتحاد کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے گا۔ خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر علی عبداللہی نے کہا ہم ایران کے دشمنوں، بالخصوص امریکا اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی غلط اندازہ آرائی سے گریز کریں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہمارے ملک کے خلاف کسی بھی خطرے یا جارحیت کا ہماری مسلح افواج سخت جواب دیں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں