نوجوانوں نے صرف چند ہفتوں میں مودی کا غرور توڑ دیا
’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے انسٹاگرام پر 2کروڑ 20لاکھ فالورز ، تعداد بی جے پی سے دگنا نوجوان اتر پردیش، پنجاب،گجرات میں ریاستی انتخابات کے نتائج کو پلٹا سکتے ہیں 2029ء کے انتخابات میں بھی بی جے پی کے اقتدار کے تسلسل کو شدید خطرہ
نئی دہلی (رائٹرز )امتحانی پرچے لیک ہونے اور اپنے وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کے مظاہروں کے پانچ ہفتے بعد، 75 سالہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک غیر معمولی ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں قصورواروں کو سزا دینے کا وعدہ کیا مگر اس سے نوجوانوں کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اس سے قبل بھارتی لیڈر کے سیاسی اثر و رسوخ کو کبھی اس طرح کا چیلنج درپیش نہیں ہوا تھا۔ مئی میں جنم لینے والی نوجوانوں کی نوخیز سیاسی تحریک ‘کاکروچ جنتا پارٹی’نے انسٹاگرام پر محض چند ہفتوں میں 2 کروڑ 20 لاکھ فالورز حاصل کر لیے ۔ یہ تعداد مودی کی حکمران ‘بھارتیہ جنتا پارٹی سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے ، جو دہائیوں پر محیط تنظیم اور اربوں ڈالر کے فنڈز کے باوجود اس پلیٹ فارم پر صرف ایک کروڑ فالورز رکھتی ہے ۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام پر بی جے پی کی یہ واضح شکست اور مودی کی جانب سے نوجوانوں کی مانگ کے آگے جھکتے ہوئے وزیرِ تعلیم کو مستعفی کرنے کا فیصلہ، مودی کے اس سیاسی سحر کے خاتمے کا پتہ دیتا ہے جس کے تحت انہیں ناقابلِ تسخیر اور عوامی دباؤ سے بالاتر سمجھا جاتا تھا۔
بی جے پی کی روایتی سوشل میڈیا مشینری ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) اور واٹس ایپ گروپس کے گرد گھومتی رہی ہے ، جہاں پارٹی نے اپنے قوم پرست بیانیے کو فروغ دیا اور اپوزیشن کو مؤثر طریقے سے دباتے ہوئے الیکشن جیتے ہیں۔تاہم، نسلِ نو (Gen Z) ( 1990 کی دہائی کے اواخر اور 2010 کی دہائی کے اوائل کے درمیان پیدا ہونے والے بھارتی نوجوان ) کی سیاست ایکس کے بجائے انسٹاگرام، ریپ میوزک، میمز اور گرافٹی (وال آرٹ)کی شکل میں منتقل ہو چکی ہے ۔دیہات سے لے کر بڑے شہروں تک پھیلنے والے اس حالیہ احتجاج نے دکھایا ہے کہ نوجوان اب مذہبی یا ذات پات کی بنیاد پر تقسیم ہونے کی بجائے بے روزگاری، پرچوں کے لیک ہونے اور اپنے تاریک مستقبل جیسے بنیادی مسائل پر متحد ہو رہے ہیں۔اگرچہ اس تحرک کی فوری وجہ میڈیکل کے داخلہ ٹیسٹ کا پرچہ لیک ہونا بنا، جس سے تقریباً 20 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے ، لیکن اس غصے کے پسِ منظر میں بہت گہرے معاشی خدشات موجود ہیں۔بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ، لیکن وہ اپنی اتنی بڑی آبادی کے لیے درکار تعداد میں معیاری نوکریاں پیدا کرنے میں مسلسل ناکام رہا ہے۔
مزید برآں، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور خودکاری (Automation) کے ابھار نے بھارت کے سروسز، آئی ٹی اور بیک آفس سیکٹرز کے لیے شدید خطرات پیدا کر دئیے ہیں جو کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے روزگار کا بڑا سہارا رہے ہیں۔نوجوانوں میں یہ احساس تیزی سے جڑ پکڑ رہا ہے کہ ڈگریوں اور امتحانات کے باوجود ان کا مستقبل محفوظ نہیں ہے ۔مودی حکومت کے لیے یہ نئی سیاسی حقیقت انتہائی حساس وقت پر سامنے آئی ہے ۔ بھارت کی کئی اہم اور بڑی ریاستوں - بشمول اتر پردیش، پنجاب اور مودی کی آبائی ریاست گجرات میں اہم اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔اتر پردیش اور گجرات دونوں بی جے پی کے مضبوط ترین گڑھ رہے ہیں۔ اگر یہ مشتعل نوجوان گراؤنڈ پر ایک منظم ووٹ بینک کی شکل اختیار کر لیتے ہیں یا ان کا یہ انسٹاگرام تحرک ایک باقاعدہ سیاسی قوت میں ڈھل جاتا ہے ، تو یہ نہ صرف ان ریاستی انتخابات کے نتائج کو بدل سکتا ہے بلکہ 2029 کے اگلے عام انتخابات کے لیے بھی بی جے پی کے اقتدار کے تسلسل کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments