امریکی پابندیوں سے تجارت میں ایک تہائی کمی ، دباؤ کا مقابلہ کرینگے : ایران
صدر مسعود پزشکیان کی پٹرول مہنگا کرنے کی تجویز ، حکومت معاشی مشکلات سے نمٹے :مجتبیٰ خامنہ ای ہرمز اور خلیج میں 400 جہاز ابھی بھی پھنسے ہوئے :یو این ،ایران کی صلاحیتیں ختم نہیں ہوئیں:روس
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی رہنما اب امریکا کے ساتھ جنگ کے معاشی اثرات کا اعتراف کر رہے ہیں،رہبرِ اعلیٰ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرے ، جبکہ صدر نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی بیرونی تجارت ایک تہائی کم ہو گئی ہے ، تاہم تہران نے ہفتے کے روز پسپائی کا کوئی اشارہ نہیں دیا اور عزم ظاہر کیا کہ وہ امریکی دباؤ کا مقابلہ کرے گا، سفارت کاری جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔ امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع کیے جانے کے چھ ماہ بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کو مالی طور پر سزا دینے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جسے اس نے ‘‘معاشی ڈی ڈے ’’ کا نام دیا ہے ۔واشنگٹن نے مختلف ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کریں، بصورتِ دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے چین اور بھارت جیسے ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں پر پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا ہے ، کیونکہ اس کے امریکا اور عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ روز پابندی کا نشانہ بننے والے مصر کے مرکزی بینک نے کہا کہ وہ اور وزارت خارجہ اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہیں، اس نے مزید کہا کہ یہ اقدام صرف بینک مصر یو اے ای کے امریکی ڈالر میں دیگر بینکوں کے ساتھ کیے جانے والے لین دین تک محدود ہے ۔بینک مصر نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹس کا جائزہ لے رہا ہے ، تاہم متحدہ عرب امارات میں اس کی شاخ اپنے صارفین کو بینکاری خدمات فراہم کرتی رہے گی۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی برقرار ہے ، بحری جنگی جہاز یو ایس ایس جان پال جونز آبنائے ہرمز میں تعینات ہے ۔سینٹ کام کے مطابق فورسز نے 82 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا، فورسز نے 3 بحری جہاز ناکارہ بنائے ، امریکی فورسز نے 2 بحری جہازوں کی تلاشی بھی لی۔پابندیوں کی اس مہم سے جنگ نے ایران کی معیشت پر جو بوجھ ڈالا ہے ، وہ مزید بڑھ گیا ہے ۔ گزشتہ ماہ ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ معاشی مشکلات سے نمٹے ،خامنہ ای سے منسوب تحریری بیان کے مطابق انہوں نے کہامہنگائی، بے روزگاری، قیمتوں اور اشیا و خدمات کی منڈی کے انتظام جیسے معاشی اور عوامی زندگی سے متعلق مسائل کے سلسلے سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا ہم ڈالر پر انحصار ختم کریں گے اور دشمن کے بیانیے کو قومی اتحاد سے شکست دیں گے ۔صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی درآمدات اور برآمدات میں تقریباً 35 فیصد تک کمی آئی ہے ، امریکی پابندیوں کے تسلسل کی وجہ سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔تاہم انہوں نے کہا کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مختصر مدت کیلئے برقرار رہنے والی یادداشتِ مفاہمت کے دوران ایران تقریباً 9 کروڑ بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا تھا،اس وقت واشنگٹن نے ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دی تھی۔انہوں نے کہا ہم مفاہمتی یادداشت کے ذریعے اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں اور اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں ، ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے یہ بھی کہا ہے کہ سعودی عرب، یواے ای سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا محسن رضائی کی آمد سے سفارت کاری کے میدان میں نقطہ نظر مزید واضح ہوا۔
انہوں نے پٹرول کی قیمت بڑھانے کی تجویز بھی دی اور کہا کہ تجارت میں کمی کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ضروری ہوسکتا ہے ۔نائب صدر جعفر قائم پناہ کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کو پٹرول کی مطلوبہ مقدار درآمد کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں برقرار رہیں۔ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کھلنے سے متعلق امریکی دعویٰ مستردکرتے ہوئے کہا ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے ، امریکی دعوے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش ہیں، ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے خاتمے تک آبنائے ہرمز پر پابندیاں رہیں گی۔اقوام متحدہ کی میری ٹائم ایجنسی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج کے علاقے میں اب بھی تقریباً 400 بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں، جن پر لگ بھگ 6 ہزار ملاح سوار ہیں۔روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ امریکا ایران کو شکست دینے کا بارہا دعویٰ کرچکا ہے لیکن حقیقت برعکس ہے ، حقیقت یہ ہے کہ ایران کی صلاحیتیں ختم نہیں ہوئیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments