11/9 : خالد شیخ کے اعترافی بیانات بطور ثبوت ناقابل قبول : امریکی فوجی عدالت
استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ خالد شیخ نے ایف بی آئی کو بیانات آزادانہ مرضی سے دئیے تھے :جج 2007 میں گوانتانامو پوچھ گچھ بھی تشدد ، جبر کا تسلسل تھی،خالد کو قانونی حقوق نہیں بتائے :کرنل مائیکل
واشنگٹن ( اے ایف پی )امریکی فوجی عدالت کے جج نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کے ایف بی آئی اہلکاروں کو دئیے گئے اعترافات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ انہیں مقدمے میں بطور ثبوت استعمال نہیں کیا جاسکتا۔یہ فیصلہ 9/11 حملوں کی 25ویں برسی سے چند روز قبل سامنے آیا ہے ۔ ان حملوں میں نیویارک، واشنگٹن اور پنسلوانیا میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے ۔خالد شیخ محمد، جنہیں ‘‘کے ایس ایم’’ بھی کہا جاتا ہے ، القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے اہم ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے ۔ انہیں مارچ 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔
امریکی فوجی جج لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شراما نے قرار دیا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ خالد شیخ محمد نے ایف بی آئی کو بیانات آزادانہ مرضی سے دئیے تھے ۔جج کے مطابق خالد شیخ محمد سے سی آئی اے کی حراست کے دوران کیے گئے مبینہ تشدد، جس میں واٹر بورڈنگ بھی شامل تھی، کے بعد 2007 میں گوانتانامو بے میں ہونے والی پوچھ گچھ بھی اسی نفسیاتی دباؤ اور جبر کا تسلسل تھی۔ جج نے یہ بھی قرار دیا کہ ایف بی آئی اہلکاروں نے جان بوجھ کر انہیں قانونی حقوق نہیں بتائے ، یہ نہیں بتایا کہ انہیں خاموش رہنے اور وکیل سے مشورہ کرنے کا حق حاصل ہے ۔استغاثہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments