ایران سے جنگ پہلے ہی جیت چکے :صدر ٹرمپ
برطانیہ تباہی کے دہانے پر ،یورپی یونین اقتصادی آپریشن میں شامل:بیسنٹ چین تعاون کیلئے تیار ہے :وینس،فوجی بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا:جنوبی کوریا امریکا عربوں کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے نہ ایران کی:عباس عراقچی
تہران ، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہم ایران جنگ پہلے ہی جیت چکے ہیں، ایران کے معاملے پر میں نے درست فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا میں یوکرین کی جنگ کا خاتمہ چاہتا ہوں، اے آئی انسانیت کے خلاف ہوگئی تو ہمارے پاس اسے روکنے کیلئے کچھ نہ کچھ ہوگا ۔ ٹرمپ نے ان متعدد خبروں اور آزادانہ تجزیوں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی فوج کے پاس ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، صدر ٹرمپ نے ایسی رپورٹس کو غداری قرار دیا ہے ۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے اس بات کو دہرایا کہ یہ خبریں سو فیصد غلط ہیں، امریکی فوج کے پاس گولہ بارود کی تقریباً لامحدود مقدار موجود ہے اور امریکا ہتھیاروں کی پیداوار میں بھی تیزی لا رہا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ تباہی کے دہانے پر ہے ، برطانیہ کو توانائی اور امیگریشن کے سنگین مسائل درپیش ہیں، برطانیہ میں توانائی کی قیمتیں ضرورت سے تین سے چار گنا زیادہ ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ کو شمالی سمندر کے تیل و گیس ذخائر سے فائدہ اٹھانا چاہئے ، دنیا بھر سے برطانیہ آمد نہ روکی گئی تو ملک شناخت کھو دے گا۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال ہوگئی ہے اور تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے ۔
جے ڈی وینس کے مطابق گزشتہ روز آبنائے ہرمز سے 150 کروڑ بیرل تیل گزرا، ایران کا آبنائے ہرمز پر اختیار عملی طور پر ختم ہوچکا ہے ۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کو بحری جہازوں پر حملے روکنا ہوں گے ، جہازوں پر حملے بند ہونے تک ایران سے مذاکرات نہیں ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے کبھی جنگ میں شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، ایرانی میڈیا کی شادی کی تقریب پر حملوں کی رپورٹس پر شک ہے ، شادی کی تقریب پر حملے کی تحقیقات کررہے ہیں۔وینس نے کہا نہیں جانتا ایران جنگ امریکی مڈٹرم الیکشن تک ختم ہوگی یا نہیں، چین ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے میں تعاون کیلئے تیار ہے ۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ یورپی یونین بھی ایران کے خلاف امریکی اقتصادی آپریشن میں باضابطہ طور پر شامل ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے اس اقدام اور ایران کے خلاف اس کے مؤقف کا خیرمقدم کرتا ہوں، امریکا اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو عالمی مالیاتی نظام کے استحصال سے روکنے کے لیے پرعزم ہے ۔سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران عالمی مالیاتی نظام کو اپنے جوہری منصوبوں کیلئے استعمال کر رہا ہے ، ایران اپنے اتحادی مسلح گروہوں کی مالی معاونت کیلئے عالمی مالیاتی نظام کو مہرہ بنا رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مسلح گروہوں کو ایرانی مالی معاونت کے تمام راستے بند کیے جائیں گے ، مالی معاونت ختم ہونے تک ایران کے خلاف کارروائیاں نہیں روکی جائیں گی۔ادھر جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔اس سے پہلے میڈیا رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ جنوبی کوریا اس سال کے آخر تک آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے ۔عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کیلئے اہم سمندری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے حوالے سے جنوبی کوریا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دباؤ ہے ۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اردن کے وزیر خارجہ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نہ عرب ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی ایران کی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اردن کے وزیر خارجہ اس بات سے لاعلم ہیں کہ امریکا نے اپنے ابتدائی حملوں میں عرب ممالک کی فضائی حدود، زمین اور سمندری حدود استعمال کیں، جس کے نتیجے میں معصوم ایرانیوں کی شہادت ہوئی۔عراقچی نے کہا کہ اردن کے وزیر خارجہ کے خیال میں ایران کو ایسے جارح کے خلاف جواب دینے سے پہلے مزید کتنا انتظار کرنا چاہئے جو نہ عرب خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور نہ ایرانی خودمختاری کا احترام کرتا ہے ؟
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments