اسرائیل کونسل کشی کا ذمہ دار قرار دینے والی جج ناوی پلے کیلئے امن نوبیل انعام

اسرائیل کونسل کشی کا ذمہ دار قرار دینے والی جج ناوی پلے کیلئے امن نوبیل انعام

حاضرین زیادہ تالیاں بجائیں تو شاید انعام ٹرمپ کیساتھ بانٹ لوں:ناوی کا طنز، امریکا کی عالمی فوجداری عدالت پر نئی پابندیاں ہم اس منحرف عدالت کی صلاحیت مفلوج کر دینگے :مارکو روبیو، امریکی پابندیاں انتہائی افسوسناک ،اقوام متحدہ ،یورپی یونین نوبیل کمیٹی نے اخلاقی سمت کھو دی ،ناوی نے اپنا کیریئر اسرائیل کیخلاف بے بنیاد الزامات گھڑنے ،پھیلانے پر استوار کیا:نیتن یاہو اعزاز عالمی قانون اور انصاف کے دفاع میں ثابت قدم رہنے والوں کی خدمات کا اعتراف ،فلسطینی وزارت خارجہ کا خیرمقدم

اوسلو(رائٹرز، اے ایف پی )جنوبی افریقا کی85 سالہ قانون دان ناوی پلے کو اس سال کا نوبیل امن انعام دے دیا گیا ہے ۔ وہ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی سابق جج اور اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ہیں۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن کی سربراہی بھی  کی تھی، جس نے اپنی رپورٹ میں اسرائیل کو نسل کشی کا ذمہ دار قرار دیا تھا ۔وہ اس وقت عالمی عدالتِ انصاف (آئی سی جے ) میں میانمار کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں ایڈہاک جج ہیں۔ یہ عالمی فوجداری عدالت سے الگ ادارہ ہے ۔ناوی پلے 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہیں۔ نوبیل کمیٹی کے چیئرمین یورگن واٹنے فریڈنیس نے اوسلو میں انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ناوی پلّے نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات چلانے کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔85 سالہ ناوی پلّے نے انعام کی خبر پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش پر طنزیہ جملہ بھی کہا۔ ناوی پلّے نے کھڑے ہوکر تالیاں بجانے والے حاضرین سے کہا کہ اگر آپ کچھ زیادہ تالیاں بجائیں تو شاید میں یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ بانٹ لوں۔

پلے کو انعام ملنے کے چند گھنٹے بعد امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کبھی بھی عالمی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔انہوں نے کہا اسی لیے امریکا آج عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر رہا ہے ، ہم اس منحرف عدالت کے ساتھ لین دین پر پابندی لگائیں گے ، اس کے وسائل کا راستہ روکیں گے اور اس کی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت مفلوج کر دیں گے ۔روبیو نے کہا یا تو عالمی فوجداری عدالت اپنے خطرات ختم کرے گی یا ہم اس عدالت کو ختم کر دیں گے ۔ ہمیں اپنے اتحادیوں سے توقع ہے کہ وہ عدالت کو قابو میں رکھیں گے ۔ ان میں سے بہت سے ممالک عدالت کے رکن ہیں اور اپنے دفاع کیلئے امریکی فوجیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے قانون دان ناوی پلّے کو نوبیل امن انعام دئیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعزاز عالمی قانون اور انصاف کے دفاع میں ثابت قدم رہنے والوں کی خدمات کا اعتراف ہے ۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ نوبیل انعام کمیٹی نے اپنی اخلاقی سمت کھو دی ہے ۔ بیان میں ناوی پلّے کو ایسا متعصب قرار دیا گیا جس نے اپنا کیریئر اسرائیل کے خلاف بے بنیاد الزامات گھڑنے اور پھیلانے پر استوار کیا۔بیان میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ ناوی پلّے نے یہودیوں کے خلاف نفرت کو ہوا دی۔ نیتن یاہو نے آئی سی سی پر امریکی پابندیوں کا خیرمقدم کیا ۔آئی سی سی نے امریکی پابندیوں کو بین الاقوامی قانون پر حملہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تاریخ اس لمحے کا فیصلہ کرے گی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کے ممکنہ اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پابندیوں کا مقصد عالمی فوجداری عدالت کو تنہا کرنا اور بالآخر اسے تباہ کرنا ہے ۔تمام ممالک کو اس کیخلاف مزاحمت کرنی چاہیے ۔یورپی یونین نے امریکی پابندیوں کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت کو اپنا کام جاری رکھنے کے قابل بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے ،پابندیوں کے قابلِ اطلاق ہونے سے پہلے چھ ماہ کی مہلت ہے ۔

جس سے امید ہے کہ فریقین کے درمیان بات چیت کی گنجائش پیدا ہوگی۔2002 میں قائم ہونے والی عالمی فوجداری عدالت جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات چلانے کی ذمہ دار ہے ۔ اس کے رکن ممالک کی تعداد 125 ہے ، جن میں یورپی یونین کے تمام ممالک اور امریکا و ترکی کے سوا نیٹو کے تمام ارکان شامل ہیں۔ اس کا صدر دفتر نیدرلینڈز میں ہے ، جو یورپی یونین اور نیٹو دونوں کا رکن ہے ۔جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی قانون دان ناوی پلے نے بین الاقوامی فوجداری انصاف کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں نوبیل امن انعام حاصل کیا۔ وہ 2003 سے 2008 تک عالمی فوجداری عدالت کے اپیلوں کے ایوان میں جج رہ چکی ہیں۔ نوبیل کمیٹی نے انعام کے اعلان میں کہا کہ اس کا مقصد ایسے وقت میں ایک یاددہانی کرانا تھا جب بین الاقوامی قانون کے ججوں اور اداروں کو سیاسی حملوں کا سامنا ہے ۔امریکی پابندیوں کے تحت عموماً امریکا میں قائم کمپنیوں کو پابندیوں کا سامنا کرنے والے ادارے کے ساتھ کاروبار یا تعاون سے روک دیا جاتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں بینک اکاؤنٹس بند کر سکتے ہیں، بیمہ کمپنیاں کوریج ختم کر سکتی ہیں اور سافٹ ویئر فراہم کرنے والی کمپنیاں تعاون روک سکتی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...