چین : مصنوعی ذہانت کا بلبلہ پھٹ گیا، 480 ارب ڈالر ڈوب گئے
کمپنیوں کے حصص پر مشتمل 50انڈیکس 4ماہ سے کم عرصے میں 40فیصد گر چکا ٹیکسوں ،بلند قیمتوں، امریکی پابندیوں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کیا:ماہرین
بیجنگ(رائٹرز) چین میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سیمی کنڈکٹرز سے وابستہ کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں شدید گراوٹ کے باعث سرمایہ کاروں کی دولت میں تقریباً 480 ارب ڈالر کی کمی ہوگئی ہے ، جبکہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ یہ بحران عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے ۔رائٹرز کے مطابق چین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اہم حصص پر مشتمل اسٹار 50 انڈیکس گزشتہ چار ماہ سے بھی کم عرصے میں تقریباً 40 فیصد گر چکا ہے ۔ ملک کے بڑے کاروباری اداروں کے حصص پر مشتمل سی ایس آئی 300 انڈیکس بھی جون میں اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 20 فیصد نیچے آگیا ہے۔ اس گراوٹ نے حصص بازار میں تقریباً دو سال سے جاری تیزی کو روک دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں کی غیر معمولی بلند قیمتوں، مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی طلب کے بارے میں غیر یقینی صورتحال، ٹیکسوں اور چینی ٹیکنالوجی مصنوعات کی برآمدات پر ممکنہ امریکی پابندیوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے ، تاہم حصص کی فروخت میں تیزی آنے کی کوئی ایک واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔گولڈمین سیکس کے اعداد و شمار کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق حصص چین اور ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹوں میں درج کمپنیوں کی مجموعی مالیت کا تقریباً 42 فیصد ہیں، جبکہ حصص کی خرید و فروخت میں ان کا حصہ 57 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ اس صورت حال نے بڑی تعداد میں انفرادی سرمایہ کاروں کو نقصان کے خطرے سے دوچار کردیا ہے ۔چین کی روبوٹ ساز کمپنی یونٹری کے حصص اگست میں کاروبار شروع ہونے کے بعد سے تقریباً نصف قدر کھو چکے ہیں، جبکہ سیمی کنڈکٹر بنانے والی کمپنی سی ایکس ایم ٹی کے حصص گزشتہ ایک ماہ میں ایک چوتھائی سے زیادہ گر گئے ہیں۔
میٹا ایکس اور مور تھریڈز جیسی چِپ ساز کمپنیوں کے حصص بھی جولائی کے بعد سے تقریباً نصف قدر کھو چکے ہیں۔ہانگ کانگ میں قائم لوٹس ایسیٹ مینجمنٹ کے سربراہ ہونگ ہاؤ کے مطابق حصص کی قیمتوں میں گراوٹ سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کیلئے اسٹاک مارکیٹ میں نئے حصص جاری کرکے سرمایہ حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔رائٹرز کے مطابق کچھ سرمایہ کار موجودہ گراوٹ کو کم قیمت پر حصص خریدنے کا موقع سمجھ رہے ہیں، لیکن دیگر مزید کمی کا انتظار کررہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اور چِپ سازی کے شعبوں میں بڑھتا ہوا مقابلہ کمپنیوں کو قیمتیں کم کرنے پر مجبور کرے گا، جس سے ان کے منافع پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments