نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:انٹربینک میں ڈالر 36 پیسےمہنگا
  • بریکنگ :- انٹربینک میں ڈالر 156 روپے 10 پیسےپرٹریڈ
  • بریکنگ :- کراچی:اوپن مارکیٹ میں ڈالر 30 پیسےمہنگا
  • بریکنگ :- اوپن مارکیٹ،ڈالر 156 روپے 30 پیسےمیں فروخت
Coronavirus Updates
ادارتی صفحہ - ورلڈ میڈیا
پاکستان اور بیرونی دنیا کے اہم ترین ایشوز پر عالمی اخبارات و جرائد میں چھپنے والی تحریروں کا ترجمہ
WhatsApp: 0344 4450229

میرے ڈپریشن کا علاج کیسے ہوا؟

تحریر: زوئی بویئر

موسم گرما میں مَیں 26 سال کی ہوئی تو شکاگو کے نواح میں اپنے والدین کے گھر منتقل ہو گئی کیونکہ اب میرے لیے اپنا خیال رکھنا ممکن نہ تھا۔ میں اپنی زندگی میں زیادہ تر ڈپریشن کا شکار رہی ہوں مگر پانچ سال پہلے موسم گرما میں میرے لیے ڈپریشن ناقابل برداشت ہو گیا تھا۔ میں کئی کئی دن صوفے پر بیٹھے گزار دیتی اور شاید ہی کوئی بات کرتی تھی۔ میرا دماغ اس قدر سست ہو گیا تھا کہ مجھے بولنے کے لیے الفاظ ہی نہیں ملتے تھے۔ میں پوری پوری رات جاگتی رہتی اور میرا ذہن سوچوں میں الجھا رہتا۔ میں مزید اس طرح زندگی نہیں گزار سکتی تھی۔ کئی لوگ قدرے تاخیر سے ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں مگر میں تو بچپن سے ہی ڈپریشن کا شکار ہو گئی تھی۔ میرا ذہن ہر وقت سوچوں میں ڈوبا رہتا اور میں کبھی ان سوچوں سے باہر نہ نکل سکتی تھی۔

جب میں دس سال کی ہوئی تو میرے ذہن پر ہر وقت ایک خوف سوار رہتا تھا۔ میں خود کو اس قدر مشکل میں پاتی کہ میرے لیے کسی ٹی وی پروگرام کے لیے بیٹھنا محال ہو جاتا تھا۔ جب میں ٹین ایج میں داخل ہوئی تو ہر صبح نہایت افسردہ موڈ کے ساتھ بیدار ہوتی اور اپنے بیڈروم کے فرش پر بیٹھی سسکیاں لیتی رہتی تھی۔ اگرچہ میں شروع میں ایک ذہین سٹوڈنٹ تھی مگر میرے لیے کلاس میں پاس ہونا مشکل ہو جاتا تھا۔ آخرکار سولہ سال کی عمر میں میں ہائی سکول سے ڈراپ ہو گئی۔ کئی سال تک میں اپنا ہر ممکن علاج کراتی رہی۔ میں ایک نفسیاتی ہسپتال میں بھی مقیم رہی جہاں میرا کئی سال تک علاج ہوتا رہا۔ میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کرتی رہی مگر میری حالت میں کوئی بہتری نظر نہ آئی۔

ایک دن اچانک کیٹامین کے استعمال سے متعلق ایک آرٹیکل میری نظر سے گزرا جس میں لکھا تھا کہ یہ طریقہ علاج شدید اور ناقابل علاج ڈپریشن کے علاج میں بہت مفید ہے۔ میری لیے یہ ایک نئی بات تھی اور یہ خاصا مہنگا بھی تھا کیونکہ اس کے ایک پیک کی قیمت 500 ڈالر تھی۔ میں نے اپنے معالج سے مشورے کے بعد اپنے قریبی کلینک پر فون کیا جو اس کے علاج کی آفر کر رہا تھا۔ کیٹا مین ایک پارٹی ڈرگ کی شہرت رکھتی ہے اور ابتدائی طور پر اسے مریضوں کو بے ہوش کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ جب اس کا مناسب طریقے سے استعمال کیا گیا تو ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ یہ ایک محفوظ دوائی ہے اور اسے ڈپریشن اورشدید پی ٹی ایس ڈی کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ اگرچہ سائنسی ماہرین ڈپریشن کے علاج کے لیے سیلوسبین اور MDMA جیسی ادویات کی سٹڈی بھی کر رہے تھے مگر کیٹامین کو کلینکل ٹرائلز میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔

روایتی اینٹی ڈپریسنٹس اپنا اثر دکھانے میں کئی ہفتے اور مہینے لگا سکتی تھیں مگر کیٹامین بہت تیز ی سے اثر دکھاتی تھی مگر اس کی مہنگی لاگت واحد رکاوٹ تھی۔ انشورنس کمپنیاں کیٹامین کو اپنے علاج میں تسلیم نہیں کرتی تھیں۔ میرے لیے تو یہ بہت مہنگی تھی جس کا صاف مطلب تھا کہ یہ بہت سوں کی پہنچ سے کوسوں دور تھی۔ فون کرنے اور سکریننگ کے عمل سے گزرنے کے کئی دن بعد مجھے کہا گیا کہ آپ کو کیٹامین سے علاج کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے حالانکہ میں کئی طرح کے علاج کروا چکی تھی مگر کوئی افاقہ نہیں ہوا تھا۔

میں کیٹامین ٹریٹمنٹ سنٹر پہنچی‘ میرا دو ہفتے کے لیے کیٹامین کی 6 خوراکوں کے ذریعے علاج شروع کر دیا گیا۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو میں ایک سے چھ مہینے بعد مزید دوائی لینے کے لیے آ سکتی تھی۔ علاج کے دوران میں ایک کرسی پر بیٹھ گئی اور ایک نرس نے میرا بلڈ پریشر چیک کیا، دل کی دھڑکن کے لیے ایک مانیٹر لگایا اور ایک آئی وی لائن میرے جسم میں ڈال دی۔ جب ایک مرتبہ کیٹامین مجھے لگا دی گئی اور روشنیاں مدھم ہو گئیں تو میں نے کرسی کو تھوڑا نیچے کیا اور زور زور سے سانس لینے لگی۔ کچھ دیر کے لیے تو مجھے کچھ محسوس نہ ہوا مگر جلد ہی دیوار پر لگی تصویر درمیان سے دو حصوں میں تقسیم ہوتی نظر آئی۔ مجھے اپنی نظر تیرتی نظر آئی مگر مجھے حرکت کرتے وقت کوئی تکلیف محسوس نہ ہوئی۔ پہلے مجھے ہلکی ڈوز لگائی گئی تھی تاکہ میرا جسم اسے قبول کرنے کا عادی ہو جائے۔ مجھے اپنے جسم میں ہلکی سی تبدیلی محسوس ہوئی۔ ہر اگلے وزٹ پر میری ڈوز بڑھا دی گئی‘ حتیٰ کہ مجھے پورا کمرہ ایک خوابناک ماحول میں گم ہوتا محسوس ہوا۔ میں جلد ہی پیچھے کی طر ف مڑی اور میرے خیالات منتشر ہونے لگے۔ میں نے آگے کی طر ف بھی سفر کیا اور ایسی ایسی جگہوں پر بھی گئی ہوں جہاں اس سے پہلے کبھی نہیں گئی تھی۔ مجھے یوں لگا کہ میرا کارپوریٹ کا رنگ اتر گیا ہے اور میرا وجود اس کائنات کے رنگ میں ڈھلنے لگا ہے۔

اگرچہ علاج کے دوران مجھے کافی سکون محسوس ہوا مگر میرے ڈپریشن میں کوئی کمی نہ ہوئی۔ تین ٹریٹمنٹس کے بعد میرے ڈاکٹر نے مشور دیا کہ شاید ہم مہنگا ہونے کی وجہ سے علاج جاری نہ رکھ سکیں۔ تیسری اور چوتھی ڈوز کے دوران مجھے شدید اذیت محسوس ہونے لگی کہ کیا میں علاج جاری رکھوں یا چھوڑ دوں۔ میں پہلے ہی ہر چیز آزما چکی تھی اور اس علاج کو ترک کرنے کا ایک مفہوم ہر شے ترک کرنے کے مترادف تھا۔ اللہ کا شکر کہ میری چوتھی ڈوز کے بعد ہر شے تبدیل ہونے لگی۔ مجھے ایسے لگا کہ ایک بٹن دبایا گیا اور میرا پورا ذہن رووشن ہو گیا۔ مجھے رنگ دوبارہ دنیا کے منظرنامے کی طرف لوٹتے محسوس ہوئے اور خو ف میرے دل و دماغ سے بالکل ہی نکل گیا۔ میری ذہنی حالت تیزی سے بہتر ہونے لگی اور دو ہفتے بعد میں اپنے اپارٹمنٹ کی صفائی اور اسے منظم کرنے لگی۔ میں نے ملازمت کے لیے اپلائی کیا اور مجھے دو جگہ سے ملازمت کی آفر آ گئی۔ پھر میں نے مراقبے کی پریکٹس شروع کر دی اور ایک نئی زبان سیکھنے لگی۔ اگرچہ میری تنخواہ بہت کم تھی مگر کلینکل ٹرائلز نے مجھے اپنی مہارتیں استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے علاج کے دوران ہی اپنے تجربات کو ایک مثبت روشنی میں فریم کر نا شروع کر دیا۔ جم کے میٹس کو مارشل آرٹس کے سٹوڈیو میں تیزاب سے واش کرنا شروع کر دیا تھا۔

جب میرے بھائی نے پہلی مرتبہ آنکھوں پر چشمہ لگایا تو وہ ہر پودے کے پتے دیکھ سکتا تھا۔ مجھے یہ دوا بھی اسی طرح اثر کرتی دکھائی دی۔ خوشی کے ان لمحا ت میں مجھے زندہ رہنے کا جواز مل گیا تھا اور میرا دل و دماغ پوری طرح ایک ملکوتی آواز کے زیر اثر محسوس ہونے لگا۔ ’’قناعت پسندی کا یہ حقیقی مفہوم ہے‘‘۔ میں نے ایک مرتبہ پھر سکول جانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ ایک دہائی سکول سے ڈراپ ہونے کے پندرہ سال اور کیٹامین سے علاج شروع کرانے کے بعد میں نے کالج سے اپنی گریجویشن مکمل کر لی۔ میں جانتی ہوں کہ میں کس قدر خوش قسمت ہوں۔ ہر کسی پر دوا اس طرح اپنا اثر نہیں دکھاتی اور بہت سے لوگوں کے لیے اس کا خر چ برداشت کرنا مشکل ہے۔ جب میری جیسی کئی کہانیاں منظر عام پر آئیں گی تو مجھے تبدیلی نظر آئے گی۔ بہت سے لوگوں کو ذہنی سکون کے حصول کا عمل ترک نہیں کرنا پڑے گا۔

(بشکریہ: نیویارک ٹائمز، انتخاب: دنیا ریسرچ سیل، مترجم: زاہد حسین رامے)

(ادارے کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement