نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اربوں روپےکی سرکاری زمین واگزارکرائی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- سابق وزیراورایم پی ایزقبضوں میں ملوث تھے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مریم نوازقبضوں میں ملوث ایک رکن اسمبلی کےساتھ کھڑی ہوگئیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- جوانتقامی کارروائی کاشورکررہےہیں وہ عدالت کیوں نہیں جاتے؟وزیراعظم
  • بریکنگ :- اراضی کیسزسےمتعلق قانون میں ترامیم کی ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زمینوں سےمتعلق کیسز 30سے 40 سال تک چلتےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- خیبرپختونخوامیں اراضی کیسزکافیصلہ ایک سال میں کیاجاتاہے،وزیراعظم
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بچوں میں تمباکو نوشی کا بڑھتا رجحان

 دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تمباکو نوشی کی شرح بڑھ رہی ہے‘ جس کا اندازہ عالمی ادارہ صحت کی اس رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں روزانہ چھ تا پندرہ برس عمر کے 1200 بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ اس بات کے غمازی کرتی ہے کہ ہمارے ملک میں بچوں کو سگریٹ فروخت پر جو پابندی عائد ہے‘ اس پر ٹھیک طور پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ان بارہ سو بچوں کو سگریٹ وغیرہ کہیں سے تو ملتے ہیں کہ وہ تمباکو نوشی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اگر یہ مضرِ صحت شے آسانی سے دستیاب نہ ہو تو ظاہر ہے ان کیلئے تمباکو نوشی کا عادی ہونا ممکن نہ رہے۔ روزانہ بارہ سو بچوں کے سگریٹ نوشی شروع کرنے کا مطلب ہے‘ سالانہ چار لاکھ اڑتیس ہزار بچے تمباکو نوشوں کی صف میں شامل ہو رہے ہیں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 108800 افراد سالانہ تمباکو نوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ دوسرے ذرائع کے مطابق یہ تعداد خاصی زیادہ ہے؛ تاہم اگر سرکاری اعدادوشمار کو ہی درست مان لیا جائے تو تمباکو نوشی سے روزانہ مرنے والوں کی تعداد 298 بنتی ہے‘ جو خاصی زیادہ ہے۔ اب اگر روزانہ بارہ سو بچے تمباکو نوشی شروع کر رہے ہوں اور پُرانے تمباکو نوشوں میں سے تین سو مر رہے ہوں تو بھی روزانہ 900 سگریٹ نوشوں کا اضافہ ہو رہا ہے یعنی 328000 سالانہ۔ اس معاملے سے غفلت برتنا ملک میں بیماریوں کی شرح بڑھانے کا باعث بن رہا ہے؛ چنانچہ ضروری ہے کہ بچوں کو سگریٹ کی فروخت پر پابندی کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ نئی نسل کا مستقبل تاریک ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس مسئلے کا ایک حل‘ جو عالمی سطح پر اختیار کیا جاتا ہے‘ یہ ہے کہ تمباکو سے بننے والی تمام اشیا پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس عائد کر کے انہیں اتنا مہنگا بنا دیا جائے کہ بچوں کے لیے ان کو خریدنا ناممکن ہو جائے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ملکی آبادی میں تمباکو نوشوں کی شرح کو کم کیا جا سکے گا بلکہ نئی نسل کو سگریٹ نوش بننے سے بھی محفوظ رکھا جا سکے گا۔

پھر سگریٹ نوشی سے جڑا ہوا اور گمبھیر معاملہ بھی ہے۔ مشاہدے میں آتا ہے کہ عام طور پر منشیات کے عادی وہی لوگ بنتے ہیں جو تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 67 لاکھ افراد منشیات استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے 40 لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں‘ جو کسی بھی ملک میں منشیات استعمال کرنے والے افراد کی ایک اچھی خاصی بڑی تعداد ہے۔ تو کیا یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں منشیات کے استعمال میں اضافہ تمباکو نوشی میں اضافے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اس کا جواب ’ہاں‘ ہی ہو سکتا ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ملک کا مستقبل دائو پر لگ جائے گا؛ چنانچہ تمباکو نوشی کے سدِ باب کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جانے چاہئیں اور اس حوالے سے سب سے زیادہ ضروری بچوں کو سگریٹ وغیرہ کی فروخت پر پابندی کے قانون پر زیرو ٹالرنس کے ساتھ عمل درآمد کرانا ہے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement