اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

منشیات کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات

منشیات اور اس کی سمگلنگ کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ منشیات کی آسان دستیابی نوجوانوں کیلئے خطرہ ہے جو ملکی آبادی کا 60 فیصد سے زائد حصہ ہیں۔نوجوان نسل میں منشیات خاص طور پر کیمیائی نشہ آور ادویات کا رجحان خطر ناک حد تک بڑھ چکا ہے مگر حکومتی سطح پر روک تھام کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ ملک کے کسی بھی شہر میں معاشرے کا یہ تاریک پہلو باآسانی دیکھا جا سکتا ہے جہاں فٹ پاتھوں‘ پارکوں یہاں تک کہ مصروف مارکیٹوں میں بھی سر عام نشے کے عادی نشہ کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ یہی لوگ چھوٹی موٹی وارداتوں میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں یا بھیک مانگ کر اپنی لت پوری کرتے ہیں۔ یہ نشئی تو سب کو نظر آتے ہیں مگر ان کے پیچھے وہ گھناؤنی زنجیر کسی کو کیوں نظر نہیں آتی جو منشیات فروشی کے دھندے کی صورت میں سماج کو نشے کی لعنت میں مبتلا رکھنے کی ذمہ دار ہے۔یہ کام صرف پیغام جاری کرنے سے نہیں ہو گا‘ اس کیلئے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو پر عزم مہم چلانے کی ضرورت ہے اور ایسے جرائم پیشہ گروہوں کا صفایا کرنا ہو گا جو منشیات فروشی کی صورت میں سماج کی تباہی کے درپے ہیں۔ پاکستان منشیات کی روک تھام کیلئے تمام متعلقہ معاہدوں پر دستخط کرنے والے ملکوں میں شامل ہے اس لحاظ سے ہماری حکومتوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ ہر قسم کی منشیات فروشی کا تدارک کریں اور جو لوگ منشیات کے عادی ہیں انہیں بحالی کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں