کچے کے ڈاکو
کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف تین ماہ سے جاری آپریشن کے باوجود ان جرائم پیشہ عناصر کا صفایا نہیں کیا جاسکا اور ان کی مجرمانہ سرگرمیاں بدستور جاری ہیں بلکہ حالیہ کچھ دنوں میں سندھ اور پنجاب میں ان ڈاکوؤں کی وارداتوں میں اضافے کی خبریں آئی ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کچے کے ڈاکو تاوان نہ دینے پر تین مغویوں کو قتل کر چکے ہیں جبکہ سندھ کے ضلع کشمور میں ایک مغوی بچے کی بازیابی کیلئے جانے والے ایک ایس ایچ او سمیت تین پولیس اہلکاروں کو بھی یرغمال بنا لیا گیا۔کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف پہلا منظم پولیس آپریشن 1992ء میں ہوا تھا اور تب سے اب تک اس علاقے میں متعدد آپریشن ہو چکے ہیں لیکن ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ تین ماہ سے جاری حالیہ آپریشن میں درجنوں ڈاکو ہلاک اور گرفتار ہوئے اور پولیس کے مطابق کچے کا 85فیصد علاقہ بازیاب کرا لیا گیا ‘ اس کے باوجود یہ ڈاکو اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈاکوؤں کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد ہنی ٹریپ کا نشانہ بنتے ہیں۔ ڈاکو لوگوں کوجھانسہ دے کر بلاتے ہیں اور اغوا کر کے بھاری تاوان وصول کرتے ہیں۔جہاں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کو یرغمال بنانے والے عناصرکا قلع قمع یقینی بنائیں‘وہیں شہریوں کو بھی چاہیے کہ ہوشمندی سے کام لیں اور ایسے عناصر کا شکار بننے سے محتاط رہیں۔