اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پنجاب اور سندھ میں منتخب حکومتوں کا قیام

صوبہ پنجاب اور سندھ کے نو منتخب وزرائے اعلیٰ نے حلف اٹھا لیا ہے۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز پہلی بار اور سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ مسلسل تیسری بار اس مسند پر براجمان ہوئے ہیں۔تاہم مریم نواز کا وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہونا پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں اس حوالے سے ایک یادگار ہے کہ پہلی بار کسی صوبے کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر ایک خاتون مسند نشین ہوئی ہے۔ مریم نواز 220 ووٹ لے کر ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیراعلیٰ منتخب ہوئیں جبکہ مخالف امیدوار‘ اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کے سبب کوئی ووٹ حاصل نہ کر سکا۔ اگرچہ مریم نواز کی پارلیمانی سیاست کا آغاز ہی ایک بڑے امتحان سے ہو رہا ہے تاہم امید کی جاتی ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں کامیاب ہوں گی کہ ان کا خاندان اس حوالے سے وسیع تجربے کا حامل ہے۔ ان کے والد میاں محمد نواز شریف اس منصب پر دو بار فائز ہو چکے ہیں‘ ان کے چچا شہباز شریف بھی تین بار وزیراعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں جبکہ چچا زاد حمزہ شہباز بھی یہ مسند سنبھال چکے ہیں‘ لہٰذا خاندانی تجربے اور والد کی معاونت سے یقینا اس عہدے کے تقاضے نبھانے میں سہولت رہے گی۔ بطور نومنتخب وزیر اعلیٰ اسمبلی سے پہلا خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرے دل میں کسی کے لیے انتقام کی خواہش نہیں‘ جن لوگوں نے ووٹ نہیں دیا میں اُن کی بھی وزیراعلیٰ ہوں‘ اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ سب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہوں۔ آئندہ کے لائحہ عمل کو واضح کرتے ہوئے پنجاب کی نومنتخب وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ کاروباری طبقے کو تمام ترکاروباری سہولتیں ون ونڈو آپریشن کے ذریعے فراہم کی جائیں گی‘ گھربیٹھے کاروبار شروع کرنے والوں کے لیے وسائل مہیا کیے جائیں گے‘ ہیلتھ کارڈ بحال کریں گے اور بارہ ہفتوں میں ایئر ایمبولینس سروس شروع کریں گے۔ علاوہ ازیں 18 شہروں میں سیف سٹی پروجیکٹ‘ تھانہ کلچر بہتر بنانے‘ ماڈل پولیس سٹیشن بنانے‘ صوبے میں کم از کم پانچ آئی ٹی سنٹر بنانے اور ہر ضلع میں دانش سکول بنانے کے علاوہ رمضان المبارک کے لیے ’’نگہبان‘‘ کے نام سے ریلیف پیکیج کا اعلان بھی کیا گیا۔ دیکھا جائے تواس پہلے خطاب میں امن و امان سے صحت و تعلیم اور صنعت وزراعت سے یوٹیلیٹی بل ریلیف تک تمام ضروری مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو صوبائی ایوان میں کسی بھی دوسری جماعت کی حمایت کے بغیر ہی واضح عددی برتری حاصل ہے‘ اس لیے اپنی پالیسیوں کے نفاذ میں اسے کسی پیچیدگی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کسی بھی حکومت کے لیے ابتدائی تین ماہ کا عرصہ خاصی اہمیت کا حامل ہوتا ہے‘ اس عرصے میں حکومت سے متعلق جو تاثر قائم ہو جائے وہ تادیر باقی رہتا ہے‘ لہٰذا حکومت کو فوری فعال ہونا پڑے گا۔ رمضان المبارک‘ جو محض دو ہفتے کی دوری پر ہے‘ حکومت کی ترجیحات اور انتظامی صلاحیتوں کا اصل امتحان ثابت ہو گا۔ حکومت اگر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے‘ سستے بازاروں کے ذریعے ارزاں اور معیاری اشیا وافر مقدار میں فراہم کرنے میں کامیاب ہو گئی تو عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنانے میںکامیاب ہو جائے گی۔ انتظامی امور کو تیز اور بہتر بنانے کے علاوہ اس وقت پنجاب کو ماحولیات‘ مہنگائی اور بڑھتے سٹریٹ کرائم جیسے مسائل درپیش ہیں جن سے فوری اور مؤثر انداز میں نمٹنے کی ضرورت ہے۔ حلف اٹھانے کے فوری بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اعلیٰ صوبائی حکام کے اجلاس میں امن و امان کی صورتحال‘ پولیس کلچر میں تبدیلی‘ رمضان ریلیف پیکیج‘ پرائس کنڑول‘ مہنگائی اور گراں فروشی جیسے مسائل کو زیرِ بحث لانے سے نئی منتخب حکومت کی ترجیحات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب سندھ کے نومنتخب وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیسری بار وزیراعلیٰ منتخب ہونا میرے لیے اعزاز کی بات‘ عوام کی خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا۔ اپوزیشن مثبت سیاست کرے اور ہماری اصلاح کرے کیونکہ اگر تنقید نہیں ہو گی تو حکومت اپنی اصلاح کیسے کرے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن کے حوالے سے ہمارے بھی خدشات ہیں لیکن ہم قانونی راستہ اپنائیں گے۔ آئندہ کے چیلنجز میں انہوں نے دہشت گردی کا خصوصی طور پر ذکر کیا کہ یہ مسئلہ ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے‘ اس کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرنا ہے۔ مراد علی شاہ قبل ازیں 2016ء سے 2023ء تک‘ سات سال وزیراعلیٰ سندھ رہ چکے‘ اُن کے والد بھی اس مسند پر فائز رہ چکے‘ یقینا وہ صوبائی مسائل سے بخوبی واقف ہوں گے۔ ان کے گزشتہ دور میں کراچی میں ٹرانسپورٹ سمیت اندرونِ سندھ میں متعدد منصوبوں پر کام شروع ہوا جبکہ صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کو بھی ترجیح بنایا گیا‘ ان جیسے منصوبوں کو مزید ترقی دے کر جاری رکھنا ہو گا جبکہ امنِ عامہ کی صورتحال کو بہتر بنانے پر بھی کام کرنا ہو گا۔ دونوں وزرائے اعلیٰ کے لیے ایک بڑا چیلنج سیاسی تنائو میں کمی اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ اگرچہ دونوں نے اپنے خطابات میں اس حوالے سے مثبت اشارے دیے ہیں؛ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس حوالے سے عملی طور پر کیا راہِ عمل اختیار کی جاتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement