اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

معاشی شرحِ نمو

عالمی مالیاتی فنڈ نے ورلڈ اکنامک آؤٹ لُک میں رواں مالی سال کیلئے پاکستان کی معاشی شرح نمو تین فیصد تک رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ گوکہ یہ شرح گزشتہ مالی سال کی شرحِ نمو سے 0.5فیصد زیادہ ہے لیکن یہ رواں مالی سال کیلئے حکومت کی جانب سے جی ڈی پی شرح نمو کے طے کردہ ہدف 3.6فیصد سے کم ہے اور تقریباً ستر فیصد نوجوان آبادی کے حامل ملک کیلئے بالکل تسلی بخش نہیں۔ اتنی کم شرحِ نمو کیساتھ روزگار کے وافر مواقع پیدا کرنا ممکن نہیں۔ معاشی نمو میں کمی سے بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے‘ اس وقت ملک میں بیروزگاری کی شرح سات فیصد تک پہنچ گئی ہے۔علاوہ ازیں کم معاشی شرح نمو سے سرمایہ کاری بھی متاثر ہوتی ہے۔ لہٰذا معاشی شرح نمو کی ترقی کیلئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو نہ صرف رواں مالی سال کیلئے شرح نمو میں اضافہ یقینی بنانا ہوگا بلکہ ایسی مربوط پالیسی بھی تشکیل دینا ہوگا کہ شرح نمو مستقل بنیادوں پر بہتری کی جانب گامزن رہے۔ اگرچہ رواں مالی سال کے دوران شرحِ سود میں نمایاں کمی ہوئی ہے لیکن یہ اب بھی 13فیصد ہے۔صنعتی پہیہ چلانے اور پیداواری عمل کو مہمیز دینے کیلئے توانائی کی لاگت کو کم کرنا اور شرحِ سود کو مزید نیچے لانا ہو گا۔ جب صنعتیں چلیں گی تو معاشی نمو بھی بہتر ہو گی نتیجتاً بیروزگاری کا گراف بھی نیچے آئے گا اور مہنگائی بھی کم ہو گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں