ڈیجیٹل کرنسی‘ فوائد و مضمرات
ملکی کرپٹو کونسل نے بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی حیثیت دینے اور ریگولیٹری فریم ورک بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس حوالے سے خوش آئند ہے کہ اب ہمارا ملک دنیا کے جدید مالیاتی نظام سے ہم قدم ہونے جا رہا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک ڈیجیٹل اثاثوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور حال ہی میں امریکہ میں بھی ڈیجیٹل اثاثوں کی قبولیت کی منظوری دی گئی۔ ایک تخمینے کے مطابق تقریباً دو کروڑ پاکستانی ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور مالی سال 2021-21ء میں بیس ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئی تھیں۔ اس رقم کو قانونی دھارے میں لانے کیلئے درپیش رکاوٹوں کو دور کرنا اور اس حوالے سے قانون سازی ایک ناگزیر تقاضا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی کا غیر قانونی دھندوں بالخصوص دہشت گردی میں بھی خاصا رسوخ پایا گیا۔ ان خطرات کو کم کرنے کیلئے ایسے قواعد وضوابط بنانے چاہئیں جو اس کرنسی کے غلط استعمال کو روک سکیں۔ کرپٹو ٹریڈنگ کیلئے باقاعدہ لائسنس جاری کر کے اور مخصوص اور قابلِ اعتبار ٹریڈرز کو ہی ڈیجیٹل کرنسی کا کام کرنے کی اجازت دے کر ان خطرات کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح لائسنس یافتہ ٹریڈرز کو متعلقہ ڈیٹا اور ٹرانزیکشن سے متعلق معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شیئر کرنے کا بھی پابند بنایا جانا چاہیے تاکہ اس کرنسی کے ناجائز اور غیر قانونی استعمال کی ہر ممکن روک تھام ہو سکے۔