سموگ کا مسئلہ
پنجاب کے میدانی علاقوں میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے شہری زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ فضا میں موجود آلودگی کے ذرات انسانی صحت کیلئے سنگین خطرہ بنتے ہیں اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ سموگ کے مہینوں میں کھانسی‘ گلے کی خرابی‘ سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں جلن کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے اور ہسپتالوں میں دمہ‘ الرجی اور نزلہ زکام کے مریضوں کی تعداد بھی بڑی حد تک بڑھ جاتی ہے۔ پنجاب کے ادارہ تحفظ ماحول کے مطابق گزشتہ روز صبح کے اوقات میں لاہور کے بعض علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 380 سے تجاوز کر گیا تھا جبکہ شہر کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 258 پارٹیکولیٹ میٹرز ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ چند برسوں سے سال کے آخری مہینوں میں سموگ ایک مستقل قومی مسئلہ بن چکی ہے‘ اور اسے پانچواں موسم قرار دیا جانے لگا ہے۔

حکومت کی جانب سے اینٹی سموگ مشینوں کا استعمال‘ اینٹوں کے بھٹوں کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا‘ چاول کی فصل کی باقیات کو جلانے پر پابندی اور گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں مگر عملی نتائج خاطر خواہ نہیں اور پچھلے سات روز کے دوران ہوا میں آلودگی کے شماریات مسلسل اضافہ ظاہر کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ مان کر چلنا ہوگا کہ سموگ کے مسئلے کی جڑیں ایک یا دو وجوہات میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سلسلہ ہے جس میں گاڑیوں کا دھواں‘ شہری منصوبہ بندی کی خامیاں‘ زرعی عادات‘ صنعتی فضلہ ٹھکانے لگانے کا ناقص نظام ‘جنگلات کی کمی اور عوامی رویے‘ سب شامل ہیں۔ ہوا کی آلودگی کے یہ عوامل جامع حکمت عملی کا تقاضا کرتے ہیں تاہم سموگ کے معاملے میں ہماری حکمتِ عملی زیادہ تر علامتی یا وقتی نوعیت کی ہوتی ہے۔ سال کے آخری مہینے جب سموگ کا مسئلہ شدت اختیار کرتا ہے تو حکومت اس جانب متوجہ ہوتی ہے مگر سارا سال اس کیلئے جو کچھ کیا جا سکتا ہے وہ سب نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں جو ہوا کو زہر آلود کرنے کی سب سے بڑی ذمہ دار ہیں‘ کی جانچ کا کوئی مستقل انتظام نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں ایسی سختی عمل میں لائی جاتی ہے جو فی الواقع ہمارے مسائل کے پیش نظر وقت کا تقاضا ہے؛ چنانچہ خطرناک اور بے تحاشا دھواں ہمارے ماحول میں اکٹھا ہوتا رہتا اور طرح طرح کے مسائل کا سبب بنتا ہے۔ ہوا میں پانی کے چھڑکاؤ کا انتظام خواہ یہ کیسا ہی جدید صورت میں ہو سموگ کے مسئلے کو جڑ سے ختم نہیں کر سکتا۔ یہ وقتی افاقہ تو ہو سکتا ہے شافی علاج نہیں۔
ایسے اقدامات کی اہمیت کے باوجود ضرورت اس امر کی ہے کہ سموگ اور ہوا میں آلودگی کے دیگر مسائل پر قابو پانے کیلئے ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے طویل مدتی افاقہ ہو۔ اس سلسلے میں چین کے تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے جہاں 2013ء سے 2018ء کے دوران بیجنگ سمیت 74 بڑے شہروں میںآلودگی کے ذرات پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کی سالانہ اوسط مقدار میں بالترتیب 33.3 فیصداور 27.8 فیصدکمی آئی۔ اس کیلئے چین نے کوئلے سے گیس اور بجلی پر انحصار بڑھایا اور انڈسٹری کے قواعد سخت کئے۔ آلودگی کی جس شدت اور اذیت کا ہمیں سامنا ہے‘ اس صورتحال میں ہنگامی حل یا وقتی اقدامات مسئلے کا پائیدار اور کارگر حل ثابت نہیں ہو سکتے۔ اینٹی سموگ گنوں سے شہر کے مختصر حصے سے سموگ کو ہٹایا جا سکتاہے مگر جب تک اس کے پیداواری عمل کو نہیں روکا جا تا سموگ کی اذیت لاحق رہے گی‘ لہٰذا ایسے اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو فضائی آلودگی کی پیداوار کو روک سکیں۔ ہمیں ایسی جامع‘ ہمہ گیر اور مستقل پالیسی کی ضرورت ہے‘ جو سموگ کے مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے سارا سال اس کا تدارک یقینی بنائے۔ فضائی آلودگی اور سموگ کا خاتمہ کسی ایک موسم میں یا کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں‘ یہ ایک مسلسل اور مشترکہ کوشش کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک جامع‘ ہمہ گیر اور سال بھر جاری رہنے والی پالیسی ہی اس بحران سے نجات دلا سکتی ہے۔