دہشت گردی کی کڑیاں
پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ دہشت گردی کے اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کا پاکستان گزشتہ سوا چار سال سے نشانہ بن رہا ہے۔ اگرچہ مضبوط دفاعی حصار اور سکیورٹی اداروں کی مؤثر حکمتِ عملی نے ملک وقوم کو دہشت گردوں کی جانب سے بڑے نقصانات سے محفوظ رکھا ہے مگر مسلسل بڑھتے واقعات ٹھوس اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کا سبب کیا ہے اور اس کا منبع کہاں ہے‘ یہ امر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بریفنگ سے یورپی یونین کے سٹرٹیجک ڈائیلاگ اعلامیے تک ہر جگہ صراحت سے بیان ہو چکا کہ اس خطے میں افغانستان دہشت گردی کا ایک بڑا مرکز بن کر سامنے آیاہے‘ جہاں کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجوئوں کو عبوری افغان حکومت کی طرف سے خاطر خواہ مدد مل رہی ہے اور دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورکس سے بھی ان کے تانے بانے ملتے ہیں۔

دہشت گرد تنظیموں میں روابط بڑھنے سے خطے کی سلامتی کیلئے نئے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے افغان عبوری انتظامیہ کو سرحدی سکیورٹی اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق ذمہ داریوں پر متوجہ کرنے کی اب تک کی تمام کوششیں بے نتیجہ گئیں اور کابل انتظامیہ دہشت گردی کی روک تھام کیلئے دو طرفہ معاہدے سے بھی گریزاں ہے۔ اگست 2021ء میں جب افغان طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالاتو پاکستان کو امید تھی کہ افغان طالبان ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور خطے کی پائیدار ترقی اور امن واستحکام کیلئے تمام ممکن وسائل بروئے کار لائیں گے‘ مگر پاکستان کی یہ امیدیں اسی وقت دم توڑ گئیں جب پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث عناصر کو جیلوں سے رہا کیا جانے لگا اور انہیں افغانستان میں محفوظ ٹھکانے بھی فراہم کیے گئے۔ اس کا ایک فوری نتیجہ خطے میں دہشت گردی کی صورت میں برآمد ہوا۔ یہ طرزِ عمل دوحہ معاہدے سے بھی متصادم تھا‘ جس میں افغان عبوری انتظامیہ نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہو گی۔
گزشتہ چار برس کے دوران افغانستان پورے خطے میں دہشت گردی کا ایک برآمد کنندہ بن کر سامنے آیا ہے۔ صرف پاکستان میں رواں سال مختلف حملوں اور آپریشنز میں 130 سے زائد افغان دہشت گرد مارے جا چکے۔ گزشتہ روز کے پشاور حملے میں بھی افغان دہشت گرد ہی ملوث پائے گئے۔ امریکہ اور نیٹو فورسز کا افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ دہشت گردوں کے تصرف میں ہے اور علاقائی ممالک کے خلاف استعمال ہو رہا‘ جس کی تصدیق عالمی ادارے بھی کر چکے ہیں۔ پاکستان اب تک عبوری افغان انتظامیہ کو اس کی ذمہ داریوں کی جانب متوجہ کرتا آیا ہے مگر ادھر سے کوئی پاسِ ذمہ داری دکھائی نہیں دیتا۔ گو کہ امن ومصالحت کی کوششیں ہنوز جاری ہیں‘ اور قطرو ترکیہ کے بعد ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر علی لاریجانی کے غیر معمولی دورے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی قیادت یہ واضح کر چکی ہے کہ ملکی امن و استحکام کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔ یقینا جب ریاستی امن کو خطرات لاحق ہوں تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا جا سکتا۔
حالیہ دہشت گردی کی لہر داخلی انتظامات مضبوط بنانے کی بھی متقاضی ہے۔ دہشت گرد گروہ‘ ان کے اہداف اور ان کی حکمت عملی میں وقت کے ساتھ خاصی تبدیلی آ چکی ہے۔ اب دفاعی حکمتِ عملی مزید مضبوط بنانے کے ساتھ دہشت گردی کے دہانے کو بند کرنا بھی ضروری ہو چکاہے۔ مگر اس سے پیشتر ضروری ہے کہ تمام داخلی وسائل پوری طرح بروئے کار لائے جائیں۔ اس وقت ہمیں نیشنل ایکشن پلان کی طرز پر انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملیوں کا جامع جائزہ لینے اور آپریشنل اور سکیورٹی پہلوؤں کے ساتھ سیاسی ہم آہنگی کی بھی ضرورت ہے۔ ایک دہائی پیشتر بھی ہم دہشت گردی کے عفریت کو شکست دے چکے ہیں۔ اب پھر ہمیں متحد ہو کر اس فتنے کا سر کچلنا ہو گا۔