اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تعلیم سے محروم بچے

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کے ایک بیان کے مطابق بلوچستان میں 69فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ اگرچہ اس وقت ملک میں سکولوں سے باہر بچوں کی مجموعی تعداد دو کروڑ 60 لاکھ سے زائد ہے لیکن بلوچستان میں یہ شرح دیگر  صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ ان بچوں کے سکولوں سے باہر ہونے میں معاشی تنگدستی کیساتھ ساتھ حکومت کی ناقص تعلیمی حکمت عملی کا بھی بڑا دخل ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم معیاری نہیں اور غربت و بیروزگاری انتہا کی ہے‘ ایسے میں غریب اور کم آمدنی والا طبقہ اپنے بچوں سے محنت مزدوری کروانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

صوبائی حکومت بنیادی تعلیم لازمی کے اصول پر ہر صورت عمل کرائے تاکہ جو بچے غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہیں‘ وہ زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو سکیں۔ علاوہ ازیں سکولوں میں فنی اور تکنیکی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ بچے محض ڈگری نہیں بلکہ ہنر بھی حاصل کر سکیں۔ باہنر تعلیم والدین کیلئے ایک عملی ترغیب بن سکتی ہے کیونکہ اس سے بچوں کے مستقبل میں روزگار کے امکانات بڑھ سکتے اور معاشی دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔ اگر بلوچستان میں سکول سے باہر بچوں کے اس المیے کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو یہ محرومی نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے سماجی‘ معاشی اور سیاسی مستقبل پر گہرے اور خطرناک اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں