اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

برآمدی گراوٹ اور تجارتی خسارہ

رواں مالی سال کے برآمدی اور تجارتی توازن کے اعدادوشمار کوئی اچھی تصویر پیش نہیں کرتے۔ ادارۂ شماریات کے مطابق مالی سال کے پہلے پانچ ماہ (جولائی۔دسمبر) کے دوران برآمدات گزشتہ برس کے اسی دورانیے کی نسبت 8.7فیصد کم رہیں۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ملکی برآمدات 16.631 ارب ڈالر تھیں جو کہ رواں مالی سال کے دوران 15.184ارب ڈالر رہیں۔ صرف دسمبر کے اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو دسمبر 2024ء کے مقابلے میں 2025ء کے دوران برآمدات میں 20.4فیصد کمی واقع ہوئی۔ برآمدات میں گراوٹ کا یہ سلسلہ اگست 2025ء سے بدستور جاری ہے۔ اگست میں 12.49فیصد کمی آئی‘ ستمبر میں 3.88‘اکتوبر میں 4.46فیصداور نومبر میں 14.5فیصد۔ تاہم اس دوران درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا اور رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 34.57 فیصد اضافے کے ساتھ 19.204 ارب ڈالر تک پہنچ گیا‘ جو کہ گزشتہ سال کے اسی دورانیے میں 14.271 ارب ڈالر تھا۔

برآمدات میں گراوٹ اور درآمدات میں اضافے کی یہ صورتحال کئی لحاظ سے فکر مندی کا موجب ہے۔ سب سے پہلے یہ تلخ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ معاشی نمو اور استحکام کے دعوے عملی طور پر نظر نہیں آتے۔ برآمدات میں اضافہ تو کجا یہ گزشتہ برس کی سطح سے بھی نیچے ہے اور یہ کمی ظاہر کرتی ہے کہ دعوؤں کے برعکس معاشی حالات دگرگوں ہیں۔برآمدات میں کمی کا یہی رجحان برقرار رہا تو مالی سال کے آخر تک برآمدی شعبہ 32 ارب ڈالر کی گزشتہ برس کی سطح تک بھی نہیں پہنچ پائے گی۔برآمدات میں کمی کی وجوہات کا حکومت کو کھوج لگانے کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے یہ کام زیادہ مشکل نہیں کیونکہ صنعتیں پہلے ہی در پیش چیلنجز کا ذکرکرتی آ رہی ہیں۔ ٹیکسٹائل کی صنعت کو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے جو سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے مگر ٹیکسوں کی بلند شرح‘ مہنگی توانائی اوربلند ترین شرح سود کی وجہ سے یہ شعبہ شدید بحران کا شکار ہے۔ خوراک کی برآمدات میں بھی رواں مالی سال کے دوران 38فیصد سے زائد کمی آئی۔ برآمدات میں کمی کا یہ رجحان نہ صرف وقتی طورپر بلکہ حکومت کے طویل مدتی دعوؤں اورمعاشی ترقی کے اہداف کیلئے بھی باعث تشویش ہے۔

یہی دیکھ لیں کہ حکومت نے اگلے پانچ سال میں برآمدات 60 ارب ڈالر تک بڑھانے کا دعویٰ کیا ہے۔برآمدات میں دوگنا اضافے کا ہدف ظاہر ہے ایک جست میں طے ہونیوالا نہیں۔یہ حصول اسی صورت ممکن ہے اگر ہر سال نمو کے طے شدہ اہداف حاصل ہوتے چلے جائیں‘ مگر رواں نصف مالی سال کی صورتحال تو آگے بڑھنے کے بجائے پسپائی کو ظاہر کرتی ہے اور سب سے بڑی برآمدی صنعت کے ذمہ داران یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ وہ پانچ سال پہلے کی سطح برقرار رکھ لیں تو بھی بڑی بات ہے۔ ان حالات میں اڑان پاکستان کے سالانہ 60ارب ڈالر برآمدات کے ہدف کا کیا بنے گا؟ برآمدات میں کمی کیساتھ ساتھ درآمدات میں غیر معمولی اضافے کا معاملہ بھی تشویشناک ہے۔ درآمدات کی نرم پالیسی کو بھی تشویش کی وجہ سمجھنا ہو گا۔ خاص طور پر ان حالات میں جب برآمدات گراوٹ کا شکار ہیں ‘ ترسیلات زر اور قرضوں سے حاصل ہونیوالا زرمبادلہ درآمدات کی نرم پالیسی کی نذر کرنے میں کوئی دانشمندی نہیں۔ مگر اس سے بھی زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ برآمدات کو بڑھانے پر توجہ دی جائے کیونکہ یہی معاشی نمو کا بنیادی ذریعہ ہے۔

برآمدات میں اضافہ صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع کا سبب بنتا ہے مگر برآمدات میں گراوٹ کے اثرات اسکے برعکس ہوتے ہیں ‘ اور ہمارے سماج میں ان اثرات کو اچھی طرح محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور غربت کی دوسری کوئی وجہ نہیں سوائے اسکے کہ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر نہیں‘ کیونکہ نئی سرمایہ کاری نہیں‘ صنعتیں یا تو جمود کا شکار ہیں یابند ہیں۔ مالی سال کے اگلے چھ ماہ حکومت کیلئے چیلنجنگ ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں