پولیس دہشت گردی کی زد میں
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع لکی مروت اور بنوں میں پولیس اہلکاروں پر دہشت گردوں کے حملے اور چار اہلکاروں کی شہادت بڑھتے سکیورٹی چیلنجز کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ یہ حملے صوبے میں محکمہ پولیس کی استعداد‘ ناکافی نفری‘ دہشت گردوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور ناکافی اسلحے کے مسائل کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ سکیورٹی سے متعلق ایک ملکی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں دہشت گردی کے واقعات میں 174 پولیس اہلکار شہید ہوئے اور یہ تعداد 2024ء میں 140 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے مقابلے میں 24 فیصد زائد ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 150 سے زائد اہلکار صرف خیبر پختونخوا میں شہید ہوئے‘ جبکہ سال بھر کے دوران پولیس پر 530 سے زائد حملے کیے گئے۔

خیبر پختونخوا گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے عفریت سے نبرد آزما ہے اور دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پولیس اہلکاروں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس قدر خطرات کی زد میں ہونے کے باوجود پولیس کی نفری‘ استعداد اور صلاحیت کو بڑھانے پر کیوں توجہ نہیں دی جا رہی؟ پولیس اہلکاروں پر دہشت گردوں کے حملوں کے مسلسل بڑھتے واقعات متقاضی ہیں کہ پولیس کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت میں بہتری لائی جائے‘ اس کو جدید اسلحے سے لیس کیا جائے اور اس کی آپریشنل و انٹیلی جنس صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے۔