پاک چین سٹریٹجک ڈائیلاگ
پاکستان چین وزرائے خارجہ سٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کا اعلامیہ دونوں ملکوں کے گہرے اعتماد‘ مشترکہ ترقی کے عزم اور دو طرفہ تعاون کی امنگوں کا عکاس ہے۔ پاکستان اور چین ہر موسم کے تزویراتی تعاون کے شراکت دار ہیں اور دونوں جانب سے اعلیٰ سطحی قریبی روابط دو طرفہ تعلقات کی وسعت کو واضح کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے مفادات سے متعلق معاملات پر دونوں ملکوں کی تاریخ غیر متزلزل حمایت کی حامل ہے۔ وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس میں دونوں ملکوں نے ترقیاتی منصوبوں اور ترجیحات کو مزید ہم آہنگ کرنے اور سی پیک کے دوسرے فیز پر اتفاق کیا اور صنعت‘ زراعت اور کان کنی کے اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے نیز گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور آپریشن کو فروغ دینے‘ قراقرم ہائی وے پر ہموار گزرگاہ کو یقینی بنانے اور پاکستان کی پائیدار ترقی کی صلاحیت کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں ملک تجارت‘ سرمایہ کاری‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘ سائبر سکیورٹی‘ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور دونوں فریقوں نے چین‘ پاکستان‘ افغانستان سہ فریقی وزرائے خارجہ مذاکرات اور چین‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش تعاون کے طریقہ کار سے نئے اور ٹھوس نتائج حاصل کیلئے آمادگی ظاہر کی ہے۔

دونوں ملکوں کی جانب سے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کے خاتمے کیلئے واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات اور افغان سرزمین کا دہشتگردی کیلئے استعمال روکنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ بدلتے عالمی منظر نامے میں پاک چین تزویراتی تعاون اور اعتماد کی اہمیت غیرمعمولی ہے۔ یہ نہایت خوش آئند امر ہے کہ عالمی اور علاقائی معاملات میں پاکستان اور چین کی کیمسٹری میں گونہ یکسانیت اور اپنائیت پائی جاتی ہے۔ داخلی معاملات کی بات کی جائے تو اس میں بھی قریب پون صدی کی آزمودہ دوستی نے کبھی شکایت کا موقع پیدا نہیں ہونے دیا۔ یہی اعتماد عوامی سطح پر بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ چینی شہری پاکستان میں اور پاکستانی چین میں اپنے گھر کے احساس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ میں ملکِ عزیز میں چینی شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے واقعات کا مقصد اسی اعتماد اور ہم آہنگی کو ٹھیس پہنچانا تھا مگر مقام شکر ہے کہ دونوں قوموں میں ایسی کوئی غلط فہمی جگہ نہیں پا سکی۔ حکومتی اور عوامی سطح پر اعتماد اور یگانگت کا وہی جذبہ جو پہلے تھا آج بھی ہے۔
بلکہ تعاون کے متعدد زیر تعمیر اور زیر غور منصوبوں کی صورت میں اس اعتماد اور تعاون میں اضافہ ہی نظر آتا ہے۔ پاکستان اور چین کا علاقائی معاملات میں یکساں مؤقف اور دہشتگردی کے خاتمے اور افغانستان سے دہشتگردی کی برآمدات روکنے کا مطالبہ خطے کی سلامتی اور دیرپا امن کی ضرورت ہے۔ چین‘ پاکستان اور افغانستان وزرائے خارجہ مذاکرات کے دوران بھی یہ مؤقف سامنے آیا تاہم افغانستان کی امن کی یقین دہانیوں پر عملدرآمد میں ناکامی صرف پاکستان کیلئے نہیں چین کیلئے بھی یکساں تشویش کا موجب ہے۔ افغانستان میں لاقانونیت اور دہشتگردی کا راج خطے میں چین کے معاشی اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے غیر معمولی خطرہ بن چکا ہے۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد یہ امید تھی کہ طالبان ملک میں امن اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور پُرامن افغانستان جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا میں تجارتی راہداری بن سکے گا‘ مگر ایسی کوئی امید ابھی تک پوری نہیں ہو سکی۔ طالبان کا افغانستان بدستور دہشتگردی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے جس کے خاتمے کیلئے پاکستان اور چین طالبان رجیم پر زور دے رہے ہیں۔ پاکستان اور چین میں صنعتی تعاون بڑھانے‘ سی پیک کے منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے چینی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ پاک چین دوستی کے ثمرات ملک میں بے روزگاری کو کم کرنے اور تخفیف غربت میں معاون ثابت ہو سکیں۔