"AYA" (space) message & send to 7575

اس ریڈیکلزم یا انتہا پسندی کی سمجھ نہ آئی

القاعدہ والوں سے کسی نے پوچھا کہ نیویارک کے ٹوئن ٹاورز پر جہاز داغ کر آپ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے؟ تین ہزار یا ساڑھے تین ہزار افراد کی اموات تو کوئی سیاسی یا سٹریٹجک مقصد بنتا نہیں۔ اسامہ بن لادن اور خالد شیخ محمد کی سوچ کیا تھی کہ یہ کارنامہ سرانجام دے کر کون سے مقاصد حاصل ہوں گے؟ ٹوئن ٹاورز تو گر گئے‘ پینٹاگون پر بھی ایک جہاز جا گرا لیکن ردِعمل میں امریکہ نے جو کچھ کیا اُس سے ایک تو افغانستان کی تباہی ہوئی اور اُس کے بعد عراق تہس نہس ہو گیا۔ القاعدہ کی بیشترقیادت ماری گئی۔ ابوزبیدہ اور خالد شیخ محمد یہاں سے پکڑے گئے۔ کچھ عرصہ بعد اسامہ بن لادن کی کھوج لگا لی گئی اور جیسا کہ وینزویلا میں امریکیوں نے حملہ کرکے صدر نیکولس مادورو کو اٹھا لیا ویسے ہی امریکی ہیلی کاپٹر آئے تھے اور جس احاطے میں اسامہ بن لادن نے اپنا مسکن بنایا ہوا تھا وہاں امریکی نیوی کے سیل اُترے‘ اسامہ بن لادن کو مارا اور اُس کی لاش ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بگرام ایئربیس لے گئے۔ جیسے وینزویلا کو حملے کا کچھ نہ پتا چلاایسے ہی اس حملے کا بھی کسی کو کچھ پتا نہ چلا۔
القاعدہ کا نمبر2ایمن الظواہری رہ گیا لیکن اُس کی کھوج بھی کابل میں امریکیوں نے لگالی اور عین طالبان کی ناک کے نیچے ایمن الظواہری ڈرون طیارے سے فائر کیے گئے میزائل کا نشانہ بن گیا۔ افغانستان پر حملے کے وقت القاعدہ یا طالبان کے جتنے لوگ امریکیوں کے ہتھے چڑھے اُنہیں دنیا بھر کے خفیہ ٹھکانوں تک پہنچایا گیا اور اُن کے ساتھ سی آئی اے نے وہ کیا کہ پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آج القاعدہ کہاں؟ کچھ لوگ اب افغانستان میں ہوں گے اور کچھ ان سے منسلک نظریاتی ساتھیوں نے صحرائے صحارا کے اردگرد اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں۔ ہم جیسے ناسمجھوں کو کوئی سمجھائے تو سہی کہ القاعدہ کی سوچ اور ساری جستجو کا مقصد کیا تھا؟
یہ اور بات ہے کہ ہمارے کرتا دھرتا برابر افغانستان کی شورشوں میں شریک رہے۔ افغانستان پر حملے کے بعد القاعدہ اور طالبان کے کتنے لوگ تھے یا یوں کہیے کتنے جتھے تھے جنہوں نے پاکستان میں آکر پناہ لی۔ قبائلی علاقوں میں بیٹھ گئے اور وہاں اپنے اڈے قائم کیے۔ کتنے ہی روایتی مَلک تھے جو اِن کے ہاتھوں قتل ہوئے۔یہ تو جب پانی سر کے اوپر سے گزرنے لگا تو ریاست کو کچھ ہوش آیا اور 2014ء میں ان عناصر کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کی گئی۔ آج جب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں تو ہمیں افغانستان سے شکایت ہے کہ بارڈر پار سے جتھے یہاں آکر حملے کرتے ہیں۔ وہ بات ذرا کم ہی یاد رہتی ہے کہ جب یہاں سے جتھے ادھر شورش برپا کرنے جاتے تھے۔
القاعدہ کا تو ایک معاملہ ہوا‘ یہ جو حماس والے ہیں ان کو کیا سوجھی تھی کہ نہتے اسرائیلیوں پر حملہ کریں‘لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنائیں اور بہت سوں کو اغوا کرکے غزہ کی سرنگوں میں یرغمال بنا کر رکھ لیں۔ القاعدہ کیا سمجھتا تھا کہ ٹوئن ٹاورزپر حملہ ہوگا اور امریکی کچھ نہ کریں گے؟ویسے ہی حماس نے کیا سمجھا تھا کہ نہتے اسرائیلیوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور اسرائیل کچھ نہ کرے گا؟ اسرائیل نے پھر بربریت کا وہ مظاہرہ کیا جس کا ذکر مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں محفوظ رہے گا۔ غزہ کی تباہی تو ہوئی‘ غزہ کے پچاس سے ساٹھ ہزار باشندے اسرائیلی بربریت کا نشانہ بنے لیکن ساتھ ہی حزب اللہ اور ایران جو کہ حماس کے بڑے حمایتی تھے کی تباہی ہوئی۔ حیران کن طریقوں سے حزب اللہ کی قیادت کا صفایا کیا گیا۔ ایسے خفیہ ٹھکانے اسرائیلی بمباروں اور میزائلوں کا نشانہ بنے کہ سوچ کر عقل دنگ رہ جائے۔ حزب اللہ کی قیادت بشمول حسن نصراللہ بیروت میں ایک محفوظ مقام پر تھے کہ اسرائیلی بمباروں کی زد میں آگئے۔ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ تہران میں سرکاری مہمان کی حیثیت سے ٹھہرے ہوئے تھے کہ اسرائیلی میزائلوں نے وہاں اُنہیں نشانہ بنایا۔ پھر جو ایران پر حملے شروع ہوئے کتنے ہی اُن کے صفِ اول کے لیڈر میزائلوں کا نشانہ بن گئے۔ آج وہ بات نہ حزب اللہ کی رہی ہے نہ ایران کی۔ لہٰذا پھر پوچھنا بنتا ہے کہ حماس کی قیادت عقل سے فارغ ہو گئی تھی کہ اُس نے اسرائیلیوں پر حملے کا منصوبہ بنایا؟
ویتنام کی جنگ کے مقابلے میں افغانستان کے نام نہاد جہاد اور القاعدہ کی انتہا پسندی کوئی معنی نہیں رکھتے۔ کون سی بربریت تھی جو پہلے فرانسیسیوں اور پھر امریکیوں نے ویتنامی قوم پر روا نہیں رکھی؟ جنگ کے عروج کے دنوں میں پانچ لاکھ امریکی فوجی ویتنام میں تعینات تھے اور جو بمباری ویتنام پر کی گئی وہ جنگِ عظیم دوم کے ہر محاذ پر تمام بمباری سے زیادہ تھی۔ کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام کی قیادت میں ویتنامی قوم ڈٹی رہی اور آخرکار تھک ہار کر امریکیوں کو ویتنام سے جانا پڑا۔ اس ساری جنگ میں ویتنامی فوج اور ویتنامی گوریلا عناصر کا ہدف عسکری ٹارگٹ ہوتے۔ سویلین کے خلاف دہشت گردی ویتنامی قوم کا سلسلہ نہیں تھا۔ جنت کا بتا کر خودکش بمبار تیار نہیں ہوتے تھے۔ ویتنامی قوم کی جدوجہد خالصتاً اپنی سرزمین کی آزادی کیلئے تھی۔ ایک اور بات یاد رہے کہ جنگِ ویتنام میں چین کی بھرپور حمایت ویتنام کمیونسٹ پارٹی کو حاصل رہی لیکن ویتنامی قوم نے چین کا تسلط کبھی قبول نہیں کیا۔ جاپانیوں سے‘ فرانسیسیوں سے‘ امریکیوں سے لڑے اپنی آزادی اور خودمختاری کیلئے۔ لیکن جنہوں نے اُن کی امداد بھی کی اُن کی گود میں کبھی نہ بیٹھے۔ ویتنامیوں کا ایک مقصد تھا جو اُنہوں نے حاصل کرلیا۔ یہ جو القاعدہ اور اب اسلامک سٹیٹ خراسان والے ہیں ان کے کیا مقاصد ہیں؟ یہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اجتماعی طور پر ہماری حالت کیا ہے؟ جن مسلم بادشاہتوں کے پاس تیل کی نعمت موجود ہے اُن کے تو وارے نیارے ہیں۔ لیکن صحیح معنوں میں پروگریسو اور ترقی یافتہ معاشرے اسلامی دنیا میں کہاں ہیں؟ کئی اعتبار سے ترکیہ نے اپنے آپ کو ایک ماڈرن ریپبلک بنالیا ہے لیکن اُس کی بڑی وجہ وہ انقلاب ہے جو سیکولر سوچ رکھنے والے کمال اتاترک کی قیادت میں برپا ہوا۔ ملائیشیا کے حالات ٹھیک ہیں اور اُس کی بڑی وجہ مہاتیر محمد کی 17سالہ قیادت تھی۔ باقی اسلامی دنیا کا کیا حال ہے؟ اسرائیل نے اُس خطے کے مسلمانوں کا حشر کر دیا اور اسرائیل کا گاڈفادر جو امریکہ ہے اس کے سربراہ یعنی صدر ڈونلڈٹرمپ کے سامنے مسلم ممالک کے سربراہوں کا رویہ دیکھنے کے لائق ہے۔ تیل رکھنے والے ممالک کا حال یہ ہے کہ اپنا تحفظ خود کرنے کے قابل نہیں۔ امریکی تسلط ہے کہ تیل کے ذخائر سے مالامال ممالک کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جمہوریت نام کی چیز ویسے ہی ہمارے اجتماعی مزاج کے خلاف لگتی ہے۔ جسے عرب بہار کہتے ہیں کس طمطراق سے آئی لیکن پھر پتا نہیں کہاں گم ہوگئی۔
بیشتر مسلم ممالک کے برعکس پاکستا ن کی بنیاد جمہوری اصولوں پر استوار ہوئی مگر جمہوریت کے ساتھ وہ کیا جائے جو یہاں ہوا تو اپنی بنیاد کو کمزور کرتے ہیں۔ لیکن جو بھی آتا ہے نیا بھاشن دینے لگتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں