"AYA" (space) message & send to 7575

چالیس سال سے ایک ہی فصل

کسی کسان یا زمیندار سے پوچھ لیں کہ ایک ہی فصل اُگاتے رہیں تو زمین کمزور پڑ جاتی ہے۔ زمین کی بھلائی اور پیداوار کی خاطر فصل تبدیل کی جاتی ہے۔ جہاں گندم اُگائی جاتی رہی ہو کچھ موسموں کے بعد کسی اور فصل کے بیج زمین میں ڈالے جاتے ہیں۔ ہر فصل کے ساتھ یہی کرنا پڑتا ہے‘ نہیں تو زمین کمزور ہو جاتی ہے‘ بوٹیاں جنہیں انگریزی میں ویڈ کہتے ہیں‘ کھیتوں میں اُگ آتی ہیں۔ اور ایسا ہو تو پھر کھادوں اور دوائیوں پر انحصار بڑھنے لگتا ہے۔ قدرت اور زندگی کا بھی یہی اصول ہے۔ زمین پر ہل چلانے کا مقصد بھی زمین میں حرارت اور گردش پیدا کرنا ہوتا ہے۔
پاکستان ایک انوکھی ریاست ہے کہ پچھلے چالیس سال سے سیاست کے میدان میں ایک ہی قسم کی دو فصلوں پر گزارا کیا جا رہا ہے۔ سندھ کے اکابرین چالیس سال سے بیٹھے ہوئے ہیں اور یہی حال پاکستان کے مرکزی صوبے پنجاب کا ہے۔ یہ بحث بیکار ہے کہ یہ فصلیں آئی کہاں سے‘ ان کی آبیاری کس نے کی اور کون سے عوامل تھے جن سے انہی پر تکیہ کیا جاتا رہا۔ لیکن کہیں تو سلسلہ ٹوٹتا‘ کوئی نئی چیز آتی لیکن عمران خان کی نئی فصل کے بعد بھی پاکستان کی ساری سیاست اور اُس سے جڑی معتبری انہی دو سیاسی قبیلوں کے ہاتھ میں آئی۔ نئی فصل کے بارے میں وضات ضروری ہے کہ اُس وقت کے باغبانِ اعلیٰ اور اُس کے ہمنواؤں نے آبیاری تو اُس کی کی لیکن کچھ بات بن نہ سکی۔ شریفوں اور زرداریوں کا علاج عمران خان ہی تھا لیکن وہ علاج ہی کیا جو اپنے کو ٹھیک نہ رکھ سکا۔ سیاسی لحاظ سے جس طریقے سے پی ٹی آئی کو موقع ملا تھا اپنے پیر جمانے کا وہ موقع اُس نے گنوا دیا۔ بڑی وجہ یہ تھی کہ بائیس سالہ دشت میں سفر کے باوجود اقتدار کے لیے پی ٹی آئی تیار نہ تھی۔ نعروں سے آگے وہ نکل نہ سکی۔ اور کوئی خاکہ ذہن میں نہ تھا کہ اقتدار میں آئے تو کرنا کیا اور کیسے ہے۔ لہٰذا جہاں بڑے فیصلے ہوتے ہیں وہاں بڑا فیصلہ ہوا کہ ہر قیمت پر پی ٹی آئی سے جا ن چھڑانی ہے‘ تو تکیہ پھر پرانی فصلوں پر کرنا پڑا کیونکہ اور کوئی متبادل تھا نہیں۔ مریخ سے تو کسی نے آنا نہیں تھا اور اگر اپنے ہاں صرف چلے ہوئے کارتوس ہی دستیاب تھے تو لامحالہ انہی چلے ہوئے کارتوسوں سے کام چلانا تھا۔
ایسے میں کوئی مضائقہ بھی نہ ہوتا کیونکہ اور کچھ نہ ہو تو دستیاب اوزار سے ہی کام چلانا پڑتا ہے۔ پرابلم صرف اتنا بن جاتا ہے کہ اوزار پرانے ہوں اور دہائیوں کے استعمال شدہ ہوں تو اُن سے کسی نئی چیز کی امید رکھنا بیکار ہو جاتا ہے۔ گھوڑے اپنی عمر کو پہنچ جائیں‘ کرکٹ کے کھلاڑی جو اپنے عروج کو پہنچ کر ڈھلان پر ہوں‘ پرانے پہلوان جن کے بہتر دن ماضی کا حصہ بن چکے ہوں‘ ان سے نئے کارناموں کی توقع رکھنا بے وقوفی ہوتی ہے۔ پاکستان کا مسئلہ البتہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ یہ بات ہر طرف سے کی جانے لگی ہے کہ ہندوستان کے پانچ یا چھ یا جتنے بھی تھے طیارے مار گرائے‘ چار روزہ جھڑپ میں ہمارے پائلٹ اور اُن کی کمان سرخرو رہے۔ امریکی صدر کی خوشنودی حاصل کرنے میں بھی ہمارے اکابرین کامیاب رہے۔ پاکستان کا پروفائل کچھ نمایاں ہوا۔ سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ بھی ہو گیا۔ لیکن ان سب کامیابیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اصلی حالت یعنی جو ہماری معاشی تنگ دستی ہے اُس میں کوئی فرق نہیں پڑا۔
اشتہار بازی کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ ہر طرف مانا جا رہا ہے کہ پاکستان کی بیشتر آبادی کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ پچھلے تین چار سال میں پہلے کی نسبت لوگوں کی زندگی مشکل ہوئی ہے۔ ساتھ ہی یہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ اس صورتِ حال میں تبدیلی لانے کیلئے کچھ کرنا ہو گا‘ حالات میں کچھ تبدیلی لانا ہوگی‘ معیشت کو بڑھانا ہو گا‘ برآمدات پر زور دینا ہو گا‘ ٹیکسوں کی بنیاد وسیع کرنی ہو گی وغیرہ وغیرہ۔ بنیادی مسئلہ یہی ہے۔ لیکچر دینے بیٹھیں تو ہم سب یہ کام کر سکتے ہیں۔ ہمیں پتا ہے کہ ایکسپورٹ بڑھانی چاہئیں‘ کاروبار اور فیکٹریاں چلانے کے نرخ نیچے آنے چاہئیں‘ انرجی سیکٹر جس نے ملک کو برباد کرکے رکھ دیا ہے‘ میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ کرے گا کون؟ بصد ادب گزارش ہے کہ یہ پرانی فصلیں اور جو بھی کام کر سکیں تبدیلی کے لوازمات ان کے بس کی بات نہیں۔ یہ پرانی توپیں ہیں اور چل چکی ہیں۔ ان کا زمانہ بیت چکا ہے۔ آج کے حالات تازہ خون اور تازہ سوچ کے متقاضی ہیں۔ چالیس سال پرانی فصلیں یہ ضرورت پوری نہیں کر سکتیں۔ یہ راکٹ سائنس نہیں عام فہم کی بات ہے۔ دو ماہ میں چار سال ہو جائیں گے پی ٹی آئی کو فارغ کئے ہوئے۔ چار سال کا عرصہ تھوڑا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کچھ کرنا ہوتا تو کچھ نہ کچھ نتائج سامنے آ چکے ہوتے۔ لیکن یہی چار سال ہیں جن میں عام آدمی کا کچومر نکالا گیا ہے۔ یہ باتیں ڈیووس (Davos) میں تو پتا چلیں گی نہیں‘ فرصت ہو تو جاننے کی کوشش کریں کہ عوام الناس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے‘ بے روزگاری کی حالت کیا ہے۔ ایسے ہی چلانا ہے پھر تو ٹھیک ہے‘ اگر چالیس سال ہو گئے ہیں تو دس یا پندرہ اور سہی۔ لیکن پھر یہ نہ کہئے کہ پاکستان کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے‘ انڈسٹری چلنی چاہیے‘ انویسٹمنٹ آنی چاہیے‘ برآمدات بڑھنی چاہئیں۔
جہاں مملکتِ خداداد کو انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے وہاں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر ملک چل رہا ہے۔ معاشی لحاظ سے مشکلات بڑھ رہی ہیں اور جن کے وارے نیارے ہیں اُن کی عیاشیاں ختم نہیں ہو رہیں۔ ختم کیا ہونا ہیں پیسے کی نمائش کی ایسی روایت پڑ چکی ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ اب کوئی احساسِ شرم بھی نہیں رہا۔ گزارش پھر سے وہی کہ ایسے ہی چلانا ہے پھر کوئی پرابلم نہیں۔ جہاں ستیاناس وہاں سوا ستیاناس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
حکمران طبقات کا المیہ البتہ یہ ہے کہ ایک تنگ گلی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ نئی فصل کا سوچیں تو انجانے خوف گھیر لیتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے بارے میں ایک دوسری وضاحت بھی ضروری ہے۔ دورانِ اقتدار تو پی ٹی آئی کچھ اتنا نہ کر سکی لیکن ہٹانے والوں کے کرتب کچھ ایسے رہے کہ گرائے ہوئے لیڈر کی ساکھ نہ صرف بحال ہوئی بلکہ پرانی فصلوں کے نقائص جوں جوں سامنے آئے ساکھ اوپر جاتی رہی۔ اور اب یہ حالت ہے کہ پسِ زنداں ہونے کے باوجود ایک سایہ ہے جو ذہنوں پر منڈلا رہا ہے۔ اس کیفیت میں حکمران طبقات خاطر خواہ سیاسی قدم اٹھانے سے قاصر ہیں۔ اندرونی حالت ایسی ہو تو بیرونی دوروں میں آسودگی کی تلاش رہتی ہے۔ کبھی یہاں کا دورہ کبھی وہاں کا۔ سعودی عرب سے کچھ مل جائے تو اطمینان کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ کچھ الفاظ ادا کریں تو اکابرینِ ملت پھولے نہیں سماتے اور واجبی سی تھپکی کو کامیاب حکمت عملی کی نشانی قرار دیتے ہیں۔
لہٰذا مسئلہ نسخے کا نہیں کہ کیا کرنا چاہیے‘ وہ تو ہم جانتے ہیں کہ فلاں فلاں چیز کی ضرورت ہے۔ مسئلہ میرِ کارواں کا ہے کہ کس میں ہمت اور صلاحیت ہو کہ آزمودہ اور فریب خوردہ راستوں سے ہٹ کر قوم کو کوئی نیا راستہ دکھا سکے۔ زوالِ مغلیہ کو دیکھ لیجئے۔ اورنگزیب کی وفات سے لے کر بہادر شاہ ظفر کی معزولی تک ڈیڑھ سو سال کا عرصہ بنتا ہے۔ کوئی ایک ڈھنگ کا بادشاہ نہ اُبھر سکا۔ یہاں بھی کیفیت کچھ ایسی ہی ہے۔ خرابیٔ بسیار اور کوئی ڈھنگ کا میرِ کارواں نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں