یکسوئی ویکجائی سے دہشت گردی کا مقابلہ
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز‘ داخلی سکیورٹی‘ دہشت گردی کے خلاف مسلح افواج کا عزم اور سکیورٹی اداروں کی ہم آہنگی سے متعلق سبھی اہم امور زیرِ بحث آئے اور اس حوالے سے درپیش مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 2025ء میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں ملیں‘ 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں 2597 دہشت گرد مارے گئے۔ پانچ سال پہلے کے مقابلے میں اب تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔ افغانستان کی جانب سے بڑھتے سکیورٹی خطرات پر ترجمان پاک افواج کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان میں جو دس بڑے دہشت گرد حملے ہوئے‘ ان سب میں افغان شہری ملوث تھے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے‘ اور امریکہ کا سات ارب ڈالر سے زائد مالیت کا جدید فوجی سازو سامان جو انخلا کے وقت افغانستان میں چھوڑدیا گیا تھا‘ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ چکا ہے جس کے سبب پاکستان کے سکیورٹی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

اس حوالے سے افغان قیادت کو یہ دوٹوک پیغام پہنچایا جا چکا کہ انہیں دہشت گردوں اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ گزشتہ برس اکتوبر میں افغانستان سے جھڑپوں کا سبب بھی یہی تھا‘مسئلہ مگر یہ ہے کہ افغانستان میں منظم مرکزی حکومت نام کی کوئی شے نہیں‘ مختلف عسکری گروہوں کا ایک اتحاد ہے‘ جو عبوری حکومت کے نام سے ریاستی نظام و انصرام چلانے کی کوشش کر رہا۔ ایک گروپ دہشت گردی کی مذمت کرتا جبکہ دوسرا اس کی سہولت کاری کرتا ہے۔ اسی وجہ سے مغربی سرحدی معاملات سنگین ہوئے ہیں اور اس کا اثر ملحقہ اضلاع پر بھی پڑا ہے۔ دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ فکری انتشار اور ٹھوس بیانیے کی عدم موجودگی بھی ہے۔ اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ کہنا صائب ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں بیانیے اور مقصد کی یکسوئی درکار ہے۔ خواہ کوئی یونیفارم میں ہو یابغیر یونیفارم کے‘ ملکی دفاع کی ذمہ داری سب سے یکسو‘ یک زبان اور یکجا ہونے کا تقاضا کرتی ہے اور اسی طرح اس جنگ کو جیتا جا سکتا ہے۔
قوم کے فکری بکھیڑوں کا نتیجہ ہم پالیسیوں کے عدم تسلسل کی صورت میں دیکھ چکے ہیں‘ جس سے داخلی تقسیم بڑھی اور دہشت گردی کو فروغ ملا۔ پریس کانفرنس میں اس حوالے سے آئین کے آرٹیکل 17کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں ہر قسم کی جماعت‘ تنظیم اور یونین سازی کو ملکی سالمیت‘ مفاد اور امنِ عامہ کے تحت عائد کردہ پابندیوں اور ضوابط کے تابع رکھا گیا ہے۔ پالیسیوں میں یکسر تبدیلی کے اثرات ہم پچھلی افغان جنگ اور نائن الیون کے بعد بھی بھگت چکے ہیں۔ ان تجربات کا حاصل یہی ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل رکھا جائے اور اس کے لیے اہم دفاعی اور خارجہ امور کو آئینی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ حکومتوں کے بدلنے سے پالیسیاں تبدیل نہیں ہونی چاہئیں۔ یہ محض امن و امان یا استحکام کا نہیں ملکی ساکھ کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ خارجہ پالیسی کا رہنما اصول ہے کہ تمام انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھے جاتے۔ بین الاقوامی تعلقات میں نہ دوست مستقل ہوتے ہیں او رنہ ہی دشمن۔
اولیت اور تقدم اگر کسی کو حاصل ہے تو وہ ملکی و ریاستی مفاد اور عوام کی فلاح ہے۔ ملکی مفاد اور عوامی فلاح کی خاطر قومی ‘ سیاسی اور سماجی قیادت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عسکری قیادت کے شانہ بشانہ چلنا چاہیے۔ اگر داخلی صفوں میں اتحاد پیدا ہو جائے تو دشمن ہمارے وطن کے خلاف جو گھنائونی سازشیں کرتے رہتے ہیں‘ وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔