اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سیاسی مکالمے کی ضرورت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے گرین سگنل سیاسی درجہ حرارت کو توازن میں لانے کے جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور‘ سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ سیاسی ڈائیلاگ کو آگے بڑھانے کیلئے تیار ہے۔ گزشتہ ایک سال سے حکومت اور اپوزیشن میں مذاکراتی چینل بند ہے‘ اور یہ امر سیاست اور جمہوریت کے ساتھ ملکی معیشت کیلئے بھی تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ سیاسی جھگڑوں کو ایوان کے اندر نمٹانے کے بجائے سڑکوں اور ذرائع ابلاغ پر انہیں طول دینے کا خمیازہ ملکی معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران حزبِ اختلاف کی جانب سے کئی شہروں میں دھرنے اور جلسے اور حکومت کی جانب سے گرفتاریوں اور مقدمات کی مکدر سیاسی فضا نے مثبت میکرو اکنامک اشاریوں کے باوجود ملکی اقتصادیات کو جمود سے نکلنے نہیں دیا۔

حکومت کی ذمہ داری نظام و انصرام کو احسن انداز سے چلانا اور حزبِ اختلاف کی ذمہ داری حکومتی اعمال پر کڑی نظر رکھنا اور محاسبہ کرنا ہوتی ہے مگر دونوں فریق اپنی بنیادی پارلیمانی ذمہ داریوں سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ گزشتہ پونے چار برس کی بے نتیجہ سیاسی کشمکش سے یہ حقیقت زیادہ نکھر کر سامنے آتی ہے کہ ملکی سیاست میں ٹیڑھی انگلی سے گھی نکالنے کا طریقہ کارگر نہیں۔ ایسی کوششوں کا حاصل ملک اور عوام کیلئے خسارے کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بڑھتی سیاسی حدت ہی کا نتیجہ ہے کہ ملکی معیشت کا پہیہ نہایت سست روی کا شکار ہے‘ جس کا براہِ راست اثر حکومتی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب حزبِ اختلاف بالخصوص تحریک انصاف نے بھی جلسے‘ جلوس‘ دھرنے اور مظاہرے کر کے اور سوشل میڈیا کے ذریعے جلتی پر تیل ڈالنے سمیت تمام حربے استعمال کر کے دیکھ لیے مگر مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے۔ یہ تجربات یہ سمجھنے کو کافی ہونے چاہئیں کہ اب سیاسی تلخی بڑھانے کی ناکام حکمت عملی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک ناکام تجربہ‘ خواہ کتنی ہی بار کیوں نہ دہرایا جائے‘ مختلف نتائج نہیں لا سکتا۔ اگر نتیجہ مختلف چاہیے تو حکمتِ عملی بھی مختلف ہونی چاہیے۔ اب جبکہ حکومت اور حزبِ اختلاف‘ دونوں اطراف سے مذاکرات کی ضرورت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور دونوں جانب کے سنجیدہ حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی عمل ہی سے ممکن ہے اور اس کا راستہ بات چیت میں ہے نہ کہ دھرنوں‘ مظاہروں اور بے لچک سیاسی رویے میں‘ تو ضروری ہے کہ خلوصِ نیت سے نئی سیاسی شروعات کی جائے۔ ماضی قریب کے سیاسی تجربات کی ناکامی سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھا جائے اور اپنی روش کو تبدیل کیا جائے۔ اس حوالے سے زیادہ ذمہ داری تو حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مفاہمانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ اپوزیشن کو سیاسی آزادیاں دینے سے کرے۔ سیاسی جماعتوں کو جو آئینی اور قانونی حقوق حاصل ہیں ان کی پاسداری کی جائے۔اسی طرح اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ اپنی لہجے کی تلخی کو کم کرے۔ خیر سگالی کے فروغ کیلئے آگ اگلتی توپوں کو خاموش کرنا چاہیے۔

بے لگام سوشل میڈیا کو نکیل ڈالی جانی چاہیے جو متعدد بار کشیدگی کو ہوا دینے کا سبب بن چکا۔ محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کو موقع دینے کا وقت ہے۔ سیاسی مفاہمت کی کوششیں‘ جو ابھی مدہم ہیں‘ اب انکی لوَ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر ملک کا سیاسی درجہ حرارت اعتدال پر آ جائے اور سالِ نو میں ملک کے سیاسی ماحول میں قابلِ ذکر بہتری آ گئی تو کسی شک و شبہ کے بغیر کہا جا سکتا ہے کہ اس کے اثرات وسیع تر ہوں گے اور معاشی و سفارتی کامیابیوں کو ٹھوس بنیاد میسر آئے گی۔ سیاسی مفاہمت کا فروغ خود سیاست اور جمہوریت کے محفوظ مستقبل کی بھی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں