اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بلوچستان، ترقیاتی اور سکیورٹی چیلنجز

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کو درپیش سکیورٹی‘ معاشی اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے وفاق اور صوبے کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ گزشتہ روز کوئٹہ میں سیاسی قیادت سے ملاقات اور مختلف منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے سفر کو مل کر آگے بڑھانا ہے‘ اتحاد اور اتفاق سے وفاق کو مضبوط بنانے کے ساتھ صوبوں کے درمیان فاصلوں کو بھی ختم کرنا ہوگا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود بلوچستان دیگر صوبوں سے بہت پیچھے ہے۔ ہر حکومت اس صوبے کی پسماندگی اور عوام کی محرومیوں کو دور کرنے کے عزم کا اظہار کرتی ہے مگر ان کا ازالہ کرنے کیلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ نومبر 2009ء میں اعلان کردہ ’’آغازِ حقوقِ بلوچستان‘‘ اس ضمن میں ایک نمایاں پیشرفت تھی مگر ڈیڑ ھ دہائی سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی صوبے کی حالت میں قابلِ ذکر بہتری نہیں آ سکی۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت اور عوامی حلقے آج بھی اس پیکیج کے مکمل اور شفاف نفاذ کے منتظر ہیں۔

اسی طرح قریب پانچ برس قبل صوبائی حکومت کا ایک جامع روڈ میپ بلوچستان ڈویلپمنٹ اینڈ گروتھ کے نام سے سامنے آیا تھا‘ جس میں انسانی سرمایہ‘ گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات‘ قدرتی وسائل کا انتظام‘ انفراسٹرکچر‘ معاشی تنوع اور سماجی تحفظ جیسے چھ بنیادی نکات پر زور دیا گیا تھا۔ کچھی کینال‘ سولرائزیشن اور انفراسٹرکچر کے منصوبے اسی جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حقوقِ بلوچستان اور ڈویلپمنٹ سٹرٹیجی کے منصوبوں کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر جائزہ لیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ بلوچستان کے حقیقی مسائل آج بھی وہی ہیں‘ جو دہائیوں پہلے تھے؛ یعنی صاف پانی‘ صحت‘ تعلیم وہنر کی سہولتیں‘ روزگار کے مواقع اور عدم تحفظ و عدم استحصال وغیرہ۔ اگرچہ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور اس سرزمین میں گیس‘ کوئلہ‘ سونا‘ اور تانبا کے وسیع ذخائر پوشیدہ ہیں مگر بے امنی اور انتشار کی فضا ان وسائل سے استفادہ کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ بلوچستان میں سکیورٹی کا مسئلہ ام المسائل قرار دیا جا سکتا ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق گزشتہ برس بلوچستان میں دہشتگردی کے 940 واقعات میں 727 سویلین و سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

سکیورٹی اداروں نے بلوچستان میں 58 ہزار سے زائد آپریشنز کیے جن میں 784 دہشتگرد مارے گئے۔ امن و امان کا مسئلہ صوبے کی پسماندگی کی بھی بڑی وجہ ہے۔ بلوچستان میں ریاست مخالف عناصر کو بیرونی بالخصوص بھارتی اعانت میسر ہونے کے ثبوت بارہا دنیا کے سامنے رکھے جا چکے۔ اس کیلئے جہاں آپریشنل اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے‘ وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ صوبے کے عوام کی دلجوئی کی جائے اور انہیں اعتماد میں لیا جائے۔ مؤثر ہمہ جہت حکمت عملی ہی دہشتگردی کے عفریت کو شکست دے سکتی ہے۔ علاوہ ازیں صوبے میں وسائل کی بہتر تقسیم بھی ضروری ہے۔ گوادر پورٹ اور سی پیک جیسے منصوبے اس حوالے سے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔ سی پیک کے دوسرے فیز میں ایسے کئی منصوبے شامل ہیں جو عوام کی حالت سنوارنے میں مددگار ثابت ہوں گے تاہم اس حوالے سے صوبائی اور وفاقی حکومت‘ دونوں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں اور دونوں کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ جب تک بلوچستان کے عوام کو معاشی طور پر مضبوط نہیں بنایا جاتا‘ صوبے میں ترقی کی رفتار کو مہمیز نہیں دی جا سکتی۔

ترقی اور خوشحالی کے اس سفر کو مل کر ہی آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی وعسکری قیادت اور بلوچ عوام وعمائدین کی بھرپور شراکت اور تعاون ہی سے ممکن ہے۔ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں