اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

فیری ٹرمینل اور بلیو اکانومی

گزشتہ روز کراچی پورٹ ٹرسٹ میں فیری ٹرمینل کا افتتاح کیا گیا‘ جو 20جنوری سے سروس کا آغاز کرے گا‘ یہ سروس ابتدائی طور پر کراچی اور ایرانی بندرگاہ چا بہار کے مابین میسر ہو گی۔گزشتہ روز ہی ملک کی پہلی ماحول دوست شپ ری سائیکلنگ منصوبے کا افتتاح بھی کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات ملک کی بلیو اکانومی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ وطن عزیز کے پاس ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی اور دنیا کے اہم ترین آبی تجارتی راستوں پر تین بڑی بندرگاہیں موجود ہیں۔ یہ وسائل کسی بھی ترقی پذیر ملک کیلئے معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں مگر ہم ان مواقع سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلیو اکانومی کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ صرف 0.4 فیصد ہے جبکہ کئی دیگر سمندری ممالک میں یہ شرح چار سے سات فیصد تک ہے۔

آبی ماہرین کے مطابق اگر حکومت بلیو اکانومی پر سنجیدگی سے توجہ دے تو یہ شعبہ ملکی معیشت میں سالانہ 40ارب ڈالر تک حصہ ڈال سکتا ہے۔ سمندری تجارت‘ ماہی گیری‘ ساحلی سیاحت‘ معدنی وسائل‘ شپنگ انڈسٹری اور سمندری توانائی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری سے نہ صرف جی ڈی پی میں اضافہ ممکن ہے بلکہ لاکھوں نئے روزگار بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں فیری ٹرمینل کا افتتاح ایک مثبت قدم ہے لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ سمندر سے وابستہ اقتصادی شعبوں کو ایک جامع نظام کے تحت مربوط کرے تاکہ بلیو اکانومی حقیقی معنوں میں ملکی معیشت میں کردار ادا کر سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں