قرضوں کا بوجھ
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 2025ء میں ملک کا مجموعی قرضہ 77543ارب روپے تک پہنچ گیا ‘ جو 2024ء کے مقابلے میں 10فیصد زیادہ ہے۔ 2024ء میں ملک کا مجموعی قرضہ 70365 ارب روپے جبکہ 2023ء میں 65195 ارب روپے تھا‘ یعنی ہر سال ملکی مالیاتی بوجھ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ جب ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم ملک چلانے کیلئے کافی نہ ہو تو حکومت کو مقامی بینکوں اور عالمی اداروں سے قرض لینا پڑتا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ پرانے قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی میں خرچ ہوتا ہے جسکے باعث ملکی معاملات کو چلانے کیلئے مزید قرض لینا پڑتا ہے۔یہ ایک ایسی دلدل ہے‘ جس سے عارضی یا وقتی اقدامات سے نہیں نکلا جا سکتا۔

اس گھن چکر سے نکلنے کیلئے ٹیکس نظام کی اصلاح ناگزیر ہے۔ قرضوں پر انحصار کے بجائے معیشت کو پیداواری معیشت بنانا ہو گا۔ قرضوں کے چنگل سے نکلنے کا یہی قابلِ عمل راستہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پیداواری شعبوں‘ خصوصاً صنعت اور زراعت میں سرمایہ کاری کو فروغ دے‘ برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات کرے اور سرمایہ کاری کو آسان بنائے۔ ٹیکس نظام کی مضبوطی کیساتھ مالیاتی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں تاکہ بجٹ خسارہ کم ہو اور ملکی معیشت خود کفیل بن سکے۔ اسی طرح حکومتی اخراجات میں کمی لانا بھی پائیدار معیشت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے۔ اگر اس جانب سنجیدگی سے توجہ مرکوز نہیں کی جاتی تو ملکی اقتصادیات قرضوں کے گھن چکر میں ہی گھومتی رہے گی۔