اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آلو کے کاشتکاروں کی مشکل

 آلو کے کاشتکار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ رواں سیزن میں آلو کی پیداوار مقامی ضروریا ت سے تقریباً دُگنی ہے لیکن برآمدات میں مشکلات کی وجہ سے کاشتکاروں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ ایک خبر کے مطابق مارکیٹ میں 60 کلو آلو کی بوری کا ریٹ 600 سے 700 روپے کے درمیان ہے جبکہ صرف ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات 400 روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔ یوں کسانوں کو فی ایکڑ لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔آلو کے کاشتکاروں کو نقصان سے بچانے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی اور آلو کی برآمدات میں خصوصی معاونت جیسے حکومتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ زرعی پیداوار کیلئے طویل مدتی منصوبہ بندی ازحد ضروری ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ مقامی ضرورت سے زائدپھلوں اور سبزیوں کی برآمد کیلئے مربوط لائحہ عمل وضع کرے۔ کولڈ سٹوریج سہولتوں کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ موجودہ سٹوریج سہولتیں ناکافی اور فرسودہ ہیں جس کی وجہ سے پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ حکومت کو جدید کولڈ سٹوریج کی سہولتیں فراہم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ کاشتکار اپنی پیداوار کو محفوظ رکھ سکیں اور مارکیٹ میں قیمتیں مستحکم رہیں۔ غذائی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن‘ خوراک میں تنوع اور پیداوار کے مطابق مارکیٹ کی ترقی بھی ضروری ہے تاکہ کسانوں کی مالی حفاظت ممکن ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں