امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگیں رکوانے اور امن قائم کرنے کا کریڈٹ لیتے لیتے نئے سال کی آمد پر جنگوں اور حملوں کی دھمکیاں دینے پر کیوں اُتر آئے؟ ملکوں کے اندر حالات کے اتار چڑھاؤ کی بنا پر وہاں کے شہری احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ یہ ہر خودمختار ملک کا داخلی مسئلہ ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران کے بعض مقامات پر مہنگائی اور کرنسی کی قیمت گرنے کے خلاف تاجروں اور شہریوں نے احتجاج کیا۔ جہاں جہاں احتجاج کرنے والوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا وہاں وہاں سکیورٹی فورسز کو سختی بھی کرنا پڑی۔ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایرانی فورسز نے مظاہرین پر گولی چلائی تو امریکہ براہِ راست مظاہرین کی مدد کو آئے گا۔ اس کے جواب میں ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی نے نہایت شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ شمخانی نے مزید کہا: ایرانی عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ عراق‘ افغانستان اور غزہ جہاں جہاں امریکہ نے مداخلت کی وہاں وہاں اس نے امن وامان کو تہ وبالا کیا۔ ایرانی صدر اور سپریم لیڈر سیّد علی خامنہ ای نے بھی واضح کیا کہ یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے اسے ہم نے ہی سلجھانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مہنگائی واقعی زیادہ ہے اور کرنسی کی قدر میں اتنی کمی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ چند ماہ قبل اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب نعیمی اور برادرِ عزیز ڈاکٹر فرید پراچہ ایرانی حکومت کی دعوت پر ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے تہران گئے تھے۔ انہوں نے واپس آ کر بتایا کہ ایران میں اب کوئی مذہبی شدت پسندی نہیں ہے اور نہ ہی پردے کی پابندی میں کہیں حکومتی مداخلت دکھائی دیتی ہے‘ تاہم اشیائے خور ونوش اور دیگر ضروریات کی بلند وبالا قیمتیں زیادہ تر ایرانیوں کیلئے ناقابلِ برداشت ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر سیّد خامنہ ای نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ہم کسی دشمن کے سامنے جھکیں گے نہیں۔ ایرانی قیادت نے امریکی عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم امن پسند ہیں اور خطے میں امن چاہتے ہیں‘ تاہم ٹرمپ کی طرف سے کسی مداخلت کے نتیجے میں خطے میں موجود امریکی مفادات کو سخت نقصان پہنچے گا۔ گزشتہ سال جون میں بارہ روزہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران امریکہ نے ایران کی تین نیوکلیئر سائٹس کو نشانہ بنایا تھا۔ اس وقت بھی اسرائیل ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کی امید لگائے بیٹھا تھا مگر ایرانی عوام اپنے ملک کے دفاع کیلئے حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ اس حملے کے جواب میں ایران نے قطر میں العدید کے مقام پر امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں فائر بندی ہو گئی اور جنگی ماحول میں خاصی کمی آ گئی۔ تاہم ایران کے خلاف اسرائیلی دھمکیاں اور ریشہ دوانیاں جاری رہیں۔ ایرانی عوام اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ مہنگائی اور غیر ملکی کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اُن پابندیوں کی بنا پر ہے جو امریکہ اور دیگر کئی ملکوں نے ایران پر لگا رکھی ہیں۔ ان قدغنوں کی بنا پر ایران آزادانہ تیل وغیرہ برآمد کر سکتا ہے اور نہ ہی حسبِ ضرورت اپنی معیشت کی ترقی کیلئے اشیا درآمد کر سکتا ہے۔
یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر‘ صدر اور وزیروں‘ مشیروں نے مہنگائی کی روک تھام اور کرنسی کی قدر میں اضافے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت کو محسوس کیا ہے۔ سپریم لیڈر نے تو یہاں تک کہا کہ احتجاج کرنا ایرانی عوام کا حق ہے مگر ہنگامہ آرائی یا شرپسندی کی اجازت نہیں۔ جمعہ کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکیاں دیں اور ہفتے کے روز انہوں نے دنیا کو بتایا کہ ہم نے گزشتہ شب جنوبی امریکہ کے تیل سے مالا مال ملک وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو بیوی سمیت وہاں سے اٹھا لیا ہے۔ بتائی گئی تفصیلات کے مطابق وینزویلا کے صدر مقام کاراکس پر ایک فوجی آپریشن کیا گیا جس میں 150 جنگی جہازوں نے حصہ لیا۔ اب وینزویلا کے صدر کو نیویارک کے بروکلین حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے‘ جہاں ان پر منشیات اور دہشت گردی کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ انہیں امریکی عدالت میں پیش بھی کیا گیا۔
وینزویلا کی سپریم کورٹ کے حکم پر وہاں کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے حکومت کا چارج سنبھال لیا ہے۔ ڈیلسی نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور وینزویلا کے صدر اور اُن کی اہلیہ کو رہا کریں۔ وینزویلا کی نائب صدر نے کہا کہ ہم کسی ملک کی کالونی بننے کو تیار نہیں۔ ادھر امریکی عوام بھی اپنے صدر کے ملٹری ایکشن پر شدید تنقید کر رہے ہیں جبکہ امریکہ سے باہر بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کی مذمت کی جا رہی ہے۔ میئر نیو یارک زہران ممدانی نے امریکی صدر کے اس حملے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی خود مختار ملک پر حملہ جنگی اقدام ہے۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست فون پر بات کر کے اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا۔ برنی سینڈر امریکہ کے نہایت واجب الاحترام سینیٹر ہیں۔ انہوں نے بھی واشگاف الفاظ میں ٹرمپ کی وینزویلا پر جارحیت کو کسی ملک کی خود مختاری پامال کرنے کے مترادف قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس کے باہر امریکی عوام نے صدر کے اقدام کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ روس‘ چین‘ سپین‘ ایران‘ برازیل‘ کولمبیا اور جنوبی امریکہ کے دیگر کئی ممالک نے اس قانون شکنی کی مذمت کی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا کا نظام خود چلائے گا‘ امریکی تیل کمپنیاں وہاں سے تیل نکالیں گی اور فروخت کریں گی۔ وینزویلا تیل کے پاس تیل کے بڑے بڑے ذخائر ہیں مگر کچھ مدت سے اس کی معیشت سخت دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی بہت بڑھ چکی ہے۔ اس طرح کے داخلی مسائل تو دنیا میں اور بھی بہت سے ممالک کو درپیش ہیں۔ کیا ان مسائل سے کسی بڑی طاقت کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ ان پر چڑھ دوڑے؟ لاطینی امریکہ میں امریکی مداخلت کی طویل تاریخ ہے۔ امریکہ نے 1954ء سے 1989ء تک کئی ممالک میں فوجی جارحیت کی اور کئی ممالک میں آمروں کی حمایت بھی کی۔ ان ممالک میں کیوبا‘ ڈومینیکن ریپبلک‘ چلی اور ارجنٹائن وغیرہ شامل ہیں۔ وینزویلا والی تازہ ترین کارروائی کی طرح دسمبر 1989ء میں امریکہ نے 27 ہزار فوجیوں کے ذریعے حملہ کر کے پاناما پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس حملے کا بنیادی ہدف پاناما کے ملٹری لیڈر جنرل مینوئل نوریگا کو اقتدار سے محروم کرنا اور اس کی جگہ گلیرمو اینڈرا کے سر پر حکمرانی کا تاج سجانا تھا۔ جنوری 1990ء میں جنرل نوریگا پر مقدمہ چلانے کیلئے اس کو گرفتار کے امریکہ لایا گیا۔ بعض تجزیہ کاروں کی رائے یہ ہے کہ کسی ملک کے خلاف امریکی صدر تن تنہا ملٹری ایکشن نہیں کر سکتا‘ اس کیلئے کانگرس سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔ یہ امریکی ایکشن بلاضرورت اور بلاوجہ تھا‘ جس سے ایک بار پھر دنیا کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ تمام تر تہذیبی ارتقا کے باوجود آج بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا رواج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحفظ کے باوجود کسی بھی خودمختار ملک پر کوئی طاقتور ملک حملہ آور ہو سکتا ہے۔ اس نوعیت کے ملٹری ایکشن یہ اعلان کرتے ہیں کہ آپ کی خودمختاری کا کوئی تحفظ نہیں۔ اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نے باغی گروپ کی صومالی لینڈ نامی ''ریاست‘‘ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا‘ جس کی بیس سے زائد مسلم ممالک اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پرزور مذمت کی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ہم نے وینزویلا کے صدر کو اقتدار سے دستبردار ہونے کیلئے پُرکشش پیشکش کی تھی مگر انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ ایک خودمختار ملک کے صدر کو ایسا ہی کرنا چاہیے تھا۔ پیر کے روز سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے‘ دیکھیں کیا قرارداد منظور کی جاتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ امریکہ سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو نہ کرے‘ وہاں کے صدر کو رہا کرے اور وینزویلا کے عوام کو انتخابات کے ذریعے اپنا فیصلہ خود کرنے دے۔