"RS" (space) message & send to 7575

نئی تزویراتی بساط اور بیجنگ میں سٹریٹجک ڈائیلاگ

پاک چین تعلقات اب روایتی سفارتکاری کے حصار سے نکل کر ایک ایسی ہمہ گیر تزویراتی شراکت داری میں ڈھل چکے ہیں‘ جہاں بدلتی عالمی بساط پر دونوں ممالک کا معاشی اور دفاعی مستقبل ایک دوسرے سے جڑ گیا ہے۔ نائب وزیراعظم ‘ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ بیجنگ اسی نئی جیو پولیٹکل حقیقت کی علامت ہے جو خطے میں طاقت کے توازن اور پائیدار استحکام کیلئے ناگزیر موڑ ثابت ہو گا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورۂ چین محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات میں پاکستان کی سٹریٹجک سمت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی سیاست ایک نئے طاقت کے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے‘ پاکستان اور چین کے درمیان ساتواں وزرائے خارجہ سٹریٹجک ڈائیلاگ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دونوں ملک مستقبل کی سیاست‘ معیشت اور سلامتی کو ایک مشترکہ فریم میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ دورہ اس لیے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کہ پاک چین سفارتی تعلقات کے 75سال مکمل ہونے جا رہے ہیں۔ بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں نے یہ پیغام دیا کہ پاک چین تعلقات رسمی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اسحاق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان گفتگو میں اس بات پر اتفاق سامنے آیا کہ پاک چین دوستی خطے کے امن اور استحکام کیلئے ناگزیر ہے‘ خاص طور پر ایسے وقت میں جب افغانستان‘ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔
سی پیک کا دوسرا مرحلہ اس دورے کا مرکزی نکتہ رہا۔ پہلے مرحلے میں توانائی اور انفراسٹرکچر پر توجہ دی گئی جبکہ اب صنعتی ترقی‘ برآمدات‘ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے مواقع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ خصوصی اقتصادی زونز‘ زرعی ٹیکنالوجی‘ لاجسٹکس اور ڈیجیٹل معیشت ایسے شعبے ہیں جہاں پاکستان اور چین مشترکہ طور پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور ترقی پذیر ممالک کو نئے معاشی ماڈلز کی ضرورت ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو کے تناظر میں بھی یہ دورہ غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ چین اب اعلیٰ معیار کی ترقی‘ گرین انرجی اور پائیدار منصوبوں پر زور دے رہا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اس ویژن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اسی لیے سی پیک فیز ٹُو کو صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ انسانی وسائل‘ ڈیجیٹل رابطہ کاری اور جدید صنعت کو اس کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران ایک اہم مگر غیراعلانیہ پیشرفت بھی سامنے آئی جسے سفارتی حلقے خصوصی خبر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ جب اسحاق ڈار بیجنگ میں موجود تھے‘ اسی دوران ایک اعلیٰ سطح افغانی وفد بھی چین کے غیراعلانیہ دورے پر موجود تھا۔ اس وفد کی قیادت طالبان کے انٹیلی جنس ادارے‘ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے سربراہ مولوی عبدالحق وثیق کر رہے تھے۔ افغانی وفد کی ملاقاتیں چین کی سلامتی سے متعلق اعلیٰ حکام کے ساتھ طے تھیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان کی جانب سے افغانستان سے لاحق سکیورٹی خدشات کے حوالے سے متعدد شکایات سامنے آ چکی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت کے بعد چین کی تشویش میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات کے پس منظر میں افغانی وفد کا بیجنگ میں موجود ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین افغانستان کی سلامتی صورتحال کو نہایت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ چین نے نہ صرف اپنی براہِ راست شکایات طالبان قیادت کے سامنے رکھی ہوں گی بلکہ پاکستان کی سلامتی سے متعلق خدشات پر بھی واضح پیغام دیا گیا ہو گا۔ سلامتی کا پہلو مجموعی طور پر اس پورے دورے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ چینی شہریوں اور منصوبوں کا تحفظ پاکستان نے اپنی ریاستی ذمہ داری کے طور پر دہرایا جبکہ چین نے اس عزم کو سراہا۔ افغانستان میں غیریقینی صورتحال‘ وہاں سرگرم شدت پسند عناصر اور سرحد پار خطرات کے تناظر میں چین‘ پاکستان اور طالبان حکام کے درمیان پس پردہ رابطوں کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ علاقائی پس منظر میں افغانستان کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے حالات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ خلیجی ممالک کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات‘ ایران اور عرب دنیا کے درمیان کشیدگی اور توانائی کی عالمی سیاست پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ چین کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ان پیچیدہ علاقائی حالات میں توازن قائم رکھا جائے۔ اسی طرح عالمی سطح پر وینزویلا کی صورتحال بھی ایک اہم پس منظر فراہم کرتی ہے۔ توانائی کے وسیع ذخائر‘ بڑی طاقتوں کی مداخلت اور داخلی عدم استحکام نے وینزویلا کو عالمی کشمکش کی علامت بنا دیا ہے۔ یہ صورتحال چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ پاکستان ان عالمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط اور محتاط بنیادوں پر استوار کر رہا ہے۔
پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر مشترکہ نمائشیں‘ سرمایہ کاری فورمز اور ثقافتی سرگرمیاں اس بات کا اظہار ہیں کہ یہ تعلق صرف ریاستی سطح تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی مضبوط ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر اسحاق ڈار کا دورۂ چین‘ اس کے ساتھ جاری خاموش سفارتی سرگرمیاں اور خطے میں بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان‘ چین اور افغانستان کے معاملات اب الگ الگ نہیں رہے بلکہ ایک وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں جڑ چکے ہیں۔ یہی تناظر آنے والے برسوں میں پاکستان کی خارجہ اور معاشی سمت کا تعین کرے گا۔
اسحاق ڈار کے دورۂ چین کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات اب محض دوطرفہ تجارت یا چند منصوبوں تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ ایک ایسی تزویراتی شراکت داری میں ڈھل چکے ہیں جو پورے خطے کے مستقبل پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بیجنگ میں ہونے والی سٹریٹجک مشاورت اور افغانستان کے حوالے سے ہونے والی پس پردہ سفارتی پیشرفت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ چین اب خطے میں امن و سلامتی کے ضامن کے طور پر ایک فعال کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے‘ جس میں پاکستان اس کا کلیدی شراکت دار ہے۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز جہاں پاکستان کی معاشی خود مختاری کیلئے نئی راہیں کھولے گا‘ وہیں سکیورٹی کے حوالے سے چین‘ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی دہشت گردی کے خاتمے اور سرحد پار استحکام کیلئے ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سرد جنگ‘ وینزویلا سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک پھیلی ہوئی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے درمیان بدلتے ہوئے توازن کے پیش نظر پاکستان کا چین کے ساتھ کھڑا ہونا حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کا عکاس ہے۔ اس دورے نے یہ پیغام دنیا تک پہنچا دیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی اور معاشی بقا کیلئے کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے کے بجائے اپنے بااعتماد دوست کے ساتھ مل کر ایک کثیرالجہتی دفاعی اور اقتصادی ڈھانچہ تشکیل دے رہا ہے۔ اس پس منظر کے بعد وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ بیجنگ میں ہونے والے یہ فیصلے محض وقتی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المیعاد سٹریٹجک ویژن کا حصہ ہیں جو پاکستان کو عالمی سیاست کے نئے منظرنامے میں ایک مضبوط اور باوقار مقام دلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں