غذائی عدم تحفظ
ہاؤس ہولڈ اکنامک سروے 2024-25ء کے مطابق گزشتہ چھ برسوں کے دوران ملک میں غذائی عدم تحفظ کی شرح میں تقریباً نو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2019ء میں ملک میں غذائی عدم تحفظ کی مجموعی شرح 15.9فیصد تھی جومالی سال 2025ء میں بڑھ کر 24.3 فیصد تک جا پہنچی‘ یعنی ملک میں ہر چار میں سے ایک گھرانہ مناسب خوراک تک رسائی سے محروم ہے۔ یہ صورتحال حکومت کے معاشی استحکام کے دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہے۔ غذائی عدم تحفظ میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور عوام کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی شامل ہے۔گزشتہ برسوں میں غذائی اشیا کی قیمتیں جس تیزی سے بڑھیں‘ اس نے عوام کی معاشی سکت کو بری طرح متاثر کیا۔ اس سنگین بحران کے تدارک کیلئے حکومت کو ہنگامی اور طویل مدتی دونوں سطحوں پر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

ایک طرف اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر مؤثر کنٹرول‘ ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی اور سپلائی چین کو بہتر بنانا ضروری ہے تو دوسری جانب کم آمدنی والے گھرانوں کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی اور آمدنی میں اضافہ ناگزیر ہے۔ غذائی تحفظ کیلئے غذائی اجناس کی مقامی پیداوار میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ غذائی عدم تحفظ محض خوراک کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ قومی صحت‘ سماجی استحکام اور مستقبل کی انسانی ترقی سے بھی منسلک ہے۔ اگر اس پر فوری اور سنجیدہ توجہ نہ دی گئی تو اسکے اثرات آنیوالے برسوں میں مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔