سپر فلو کا پھیلاؤ
لاہور سمیت پنجاب بھر میں سپر فلو‘ انفلوئنزا اور دیگر وائرل انفیکشنز میں اضافہ تشویشناک ہے۔ ایک خبر کے مطابق پچھلے ایک ہفتے کے دوران لاہور کے چھ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سپر فلو اور وائرل انفیکشنز کے 45 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ سردی کی شدت بڑھنے سے بچوں اور بزرگوں میں نمونیا کے کیسز میں بھی اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ سپر فلو کی علامات میں نزلہ‘ زکام‘ کھانسی‘ تیز بخار اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق کمزور قوتِ مدافعت والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ سپر فلو سمیت دیگر وائرل انفیکشنز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں سردی میں اضافہ‘ ہوا میں نمی‘ پُرہجوم مقامات پر سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنا اور حفاظتی تدابیر نہ اپنانے جیسے عوامل شامل ہیں۔

اس سے بچائو کیلئے شہریوں کو چاہیے کہ ماسک کا استعمال کریں‘ ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور کھلے مقامات پر سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ فلو ویکسین لگوانا بھی اس وبا سے محفوظ رہنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اس ضمن میں ہسپتالوں میں اضافی بیڈز اور ادویات کی دستیابی بھی یقینی بنانی چاہیے۔ ہسپتالوں میں فلو ویکسین کی مفت فراہمی بھی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتی اور انفیکشن کی شدت کو کم کر سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال ایک انتباہ ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صحت عامہ پر اسکے اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔