"KMK" (space) message & send to 7575

ہم سب بھی نسیم ہی ہیں

گزشتہ کالم میں مَیں نے 58سال بعد یاد آنے والے اپنے چھٹی کلاس کے ہم مکتب نسیم کا ذکر کیا تھا جو فیل ہونے پر اپنے ساتھ دو چار مزید کلاس فیلو طلبہ کے فیل ہو جانے کے سبب افسردہ ہونے کے بجائے خوش دکھائی دیتا تھا۔ لیکن غور کیا تو ان 58برسوں میں عملی طور پر من حیث القوم ہر طرف نسیم ہی دکھائی دیے۔ اللہ بخشے ماسٹر ظہور شیخ صاحب کو ایسی شاندار باتیں کرتے تھے کہ تب آدھی سمجھ میں آنے کے باوجود ان کی باتیں دل کو لگتی تھیں۔ کسی دوسرے بچے کی شکایت لگانے والے طالبعلم کو اپنے پاس بلاتے اور اس سے پوچھتے کہ جس بات کی تم شکایت لے کر آئے ہو بالکل ایمانداری سے بتانا کہ تم نے خود کبھی یہ حرکت نہیں کی؟ جواب اثبات میں ہوتا تو اس پر ناراض ہونے کے بجائے پیار سے سمجھاتے کہ دوسروں کی شکایت لگانے سے پہلے تمہیں خود پر غور کرنا چاہیے تھا۔ تمہیں تو خود علم ہے کہ یہ بری بات ہے کیا خبر اس طالبعلم کو‘ جس کی تم شکایت لے کر آئے ہو‘ علم ہی نہ ہو کہ یہ بری بات ہے۔ تم پر تو زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کا ایک جملہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ کہتے تھے: دوسروں کی خرابی یا برائی بیان کرنے سے تم خود اچھے نہیں بن سکتے‘ اچھا بننے کیلئے دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کے بجائے اپنی خامیاں اور خرابیاں تلاش کرنے کے بعد انہیں درست کرو۔ اچھا بننے کیلئے دوسرے کو برا ثابت کرنا لاحاصل ہے اس کیلئے خود اچھا بننا لازمی ہے۔
ہمارا قومی سطح پر یہ حال ہے کہ ہم دوسروں کی خامیاں‘ خرابیاں اور برائیاں تلاش کر کے اور ان کا چرچا کرکے یہ تصور کرتے ہیں کہ ہم بہتر ہو گئے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ ہر گزرتا دن ہماری ترقیٔ معکوس کی کہانی سنا رہا ہے۔ فیل ہونے والا بچہ گھر آ کر نہایت مطمئن انداز میں بتاتا ہے کہ صرف وہی نہیں‘ آدھی کلاس اس مضمون میں فیل ہو گئی ہے۔ وہ اپنا موازنہ دیگر فیل ہونے والے بچوں سے کرتا ہے۔ وہ اپنا مقابلہ پاس ہو جانے والی آدھی کلاس سے نہیں بلکہ فیل ہونے والی آدھی کلاس سے کرکے اپنے فیل ہونے کا جواز پیش کرتا ہے۔ بظاہر متقی دکھائی دینے والے کسی ٹیکس چور تاجر سے بات کریں تو وہ اپنے سے زیادہ آمدنی والے تاجر کا ذکر کر کے بتائے گا کہ وہ بھی ٹیکس نہیں دیتا۔ کسی راشی اہلکار کو رشوت مانگنے پر احساس دلانے کی کوشش کریں تو وہ ساتھ والی میز پر بیٹھے ہوئے اپنے دفتری ساتھی کی طرف اشارہ کرکے سرگوشی کے انداز میں بتائے گا کہ وہ تو اس کام کیلئے آپ سے کم پیسے مانگ رہا ہے‘ اگر آپ کا کام اُس کی میز پر چلا جاتا تو آپ کو سمجھ آ جاتی‘ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ میرے پاس آ گئے ہیں۔
روزانہ دو نمازیں ادا کرنے والا اپنا موازنہ نماز پنجگانہ ادا کرنے والے کے بجائے کسی بے نماز سے کرے گا اور اپنی عبادت گزاری کا ڈنکا بجائے گا۔ چھوٹا ٹیکس چور بڑے ٹیکس چور سے موازنہ کرکے خود کو محب وطن اور ذمہ دار شہری قرار دے گا۔ روزانہ ایک آدھ گھنٹہ تاخیر سے کالج جانے والا لیکچرار کئی کئی دن غائب رہنے والے پروفیسروں سے موازنہ کرکے خود کو کالج کا سب سے باقاعدہ حاضر رہنے والا استاد ثابت کرے گا۔ ناجائز منافع خور تاجر کسی اور بڑے منافع خور کا ذکر کرکے اپنی لوٹ مار کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔ زمین کی رجسٹری میں قیمتِ خرید میں گھپلا کرکے ٹیکس بچانے والا کئی دن تک افسوس کرتا رہے گا کہ فلاں صاحب نے سب رجسٹرار سے مل کر اتنے کم پیسوں میں رجسٹری کروا لی ہے اور وہ اپنی بیوقوفی کی وجہ سے سرکار کے ہاتھوں لُٹ گیا ہے۔ ایک دوست ڈاکٹر سے شکوہ کیا کہ وہ اپنے ہر مریض کو ضرورت‘ بلا ضرورت بہت سارے ٹیسٹ لکھ دیتا ہے‘ کیا اسے کبھی شرمندگی نہیں ہوتی۔ وہ مسکرا کر کہنے لگا: شکر کریں میں انہیں نسبتاً کم فیس والی لیبارٹری میں بھیجتا ہوں اور اسی حساب سے کم کمیشن لیتا ہوں۔ ساتھ والے کمرے میں بیٹھا ہوا ڈاکٹر اپنے مریضوں کو ٹیسٹ لکھ کر جس لیبارٹری میں بھیجتا ہے اس کی فیس میرے والی لیبارٹری سے کم ازکم دو گنا ہوتی ہے۔ میں اپنے اردگرد والے سب ڈاکٹروں سے زیادہ اپنے مریضوں کا خیال رکھتا ہوں۔ یہ سب باتیں تو ہمارے اردگرد عام ہو رہی ہیں۔ ہم سب دراصل اپنی اپنی ذات میں ''نسیم‘‘ ہیں۔ ہم اپنا موازنہ دوسروں سے کرکے خوش ہوتے رہتے ہیں۔ ہم اپنی خامیاں اور خوابیاں دوسروں کی خامیوں اور خرابیوں میں چھپا کر خود کو مطمئن کرنے میں مصروف ہیں۔ بقول ماسٹر ظہور شیخ مرحوم کے‘ ہم خود اچھا بننے کیلئے خود کو بہتر بنانے کے بجائے اپنا موازنہ زیادہ برے سے کر کے خود کو اچھا ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
ہماری ذاتی اچھائی کا دارو مدار دراصل دوسرے زیادہ خراب شخص کے ساتھ موازنے پر منحصر ہے۔ ہم خود کو ٹھیک کرنے کے بجائے اپنا تقابل زیادہ بڑی خرابی کے ساتھ کرنے کے بعد اطمینان کی سانس لیتے ہیں بلکہ خوشی سے پھول جاتے ہیں کہ ہم کتنے شاندار انسان ہیں۔ یہ تو صرف عام زندگی کی بات ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نیچے سے لے کر اوپر تک اسی رویے کے اسیر ہیں۔ قومی حوالوں سے کسی خرابی یا برائی کا ذکر کریں تو فوری طور پر اس کے جواز میں کسی ہمسایہ ملک سے موازنہ کر کے منہ بند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اگر اس بات پر دل کے پھپھولے جلائیں کہ ملک میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے تو بجائے اس کے کہ اس صورتحال کو بہتر کرنے کی کوئی تجویز دی جائے‘ یا اس تنزلی پر کم ازکم افسوس ہی کا اظہار کیا جائے کہ یہ ایمان کا کم سے کم درجہ ہے‘ لیکن ہو گا یہ کہ کوئی دل جلا کہے گا کہ آپ کو تو ہر وقت صرف کیڑے نکالنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک میں غریبوں کی تعداد ہمارے ہاں غریبوں کی تعداد سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ یعنی اب صرف اس بات پر خوشی کا اظہار کیا جائے کہ ہمارے ہمسائے کے حالات تو ہم سے بھی زیادہ برے ہیں‘ اس لیے فکر کی کوئی بات نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے ہمسایہ کی آبادی بھی ہم سے 5.7 گنا زیادہ ہے تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ آپ احساسِ کمتری کا شکار ہیں۔ یعنی اگر اپنے سے کم والے کو معیار نہ مانا جائے تو یہ احساسِ کمتری ہے اور اپنے سے نیچے والے کو معیار مان لیا جائے تو یہ قابلِ فخر اور احساسِ برتری سے بھرپور ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کچھ ٹھیک نہیں تو جواب ملے گا کہ افغانستان میں حالات اس سے بھی کہیں زیادہ خراب ہیں۔ یعنی مقابلہ اب افغانستان سے آن پڑا ہے۔ سیاسی ابتری کی بات کریں تو جواباً یہ سننے کو ملتا ہے کہ عراق‘ شام اور یمن میں حالات اتنے خراب ہیں کہ ہم خود کو جنت میں تصور کر سکتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ملک میں دو کروڑ تریسٹھ لاکھ سکول جانے کی عمر والے بچے سکول سے محروم ہیں تو جواب ملتا ہے کہ افغانستان میں ایک بھی لڑکی سکول نہیں جا رہی۔
میڈیا ہمیں وہی کچھ دکھا رہا ہے جو اس پر نازل کیا جا رہا ہے۔ اور نازل یہ کیا جا رہا ہے کہ کس کس سلسلے میں کون کون سا ملک ہم سے نیچے ہے۔ کون کون سا ملک کس معاملے میں ہم سے پیچھے ہے۔ کس کس ملک میں امن وامان کی صورتحال‘ مذہبی تنگ نظری‘ انتہا پسندی‘ معاشی نمو اور سیاسی صورتحال ہماری نسبت زیادہ ناگفتہ بہ ہے۔ ہمیں یہ کوئی نہیں بتاتا کہ کون کون سا ملک آج سے ایک دو عشرے پہلے ہم سے کہیں نیچے اور کہیں پیچھے تھا اور اَب وہ ہم سے آگے نکل چکا ہے۔ ہمیں صرف اپنے سے مزید کمتر درجے کے ممالک سے موازنہ کرکے خوش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ہم اس پر خوش بھی ہیں۔ ہم سب لوگ ایک خاص مائنڈ سیٹ کے ذریعے 'نسیم‘ بنا دیے گئے ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ جب ہم سے نیچے والے دو چار ممالک بھی ہم سے آگے نکل گئے تو پھر ہمارا موازنہ کس سے کیا جائے گا؟ اس طرح تو ہماری ساری خوشی ہی غارت ہو جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں