اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آبی جارحیت کو روکنا ہو گا

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ پاکستان کے بارے میں بھارتی وزیر خارجہ کے تازہ بیان کے حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی سے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچے گا۔ سندھ طاس معاہدہ ان چند بین الاقوامی معاہدوں میں شامل ہے سیاسی کشیدگی‘ باہمی عدم اعتماد اور جنگوں کے دوران بھی جنہوں نے اپنی قانونی حیثیت اور افادیت کو برقرار رکھا۔ تاہم مودی سرکار اس بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں مصروف ہے اور اس حوالے سے اپنے خطرناک عزائم ظاہر کرتی رہتی ہے۔ 1960ء میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا انتظام نہیں بلکہ خطے میں تعاون‘ ذمہ داری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی علامت بھی ہے۔

ایسے میں اگر اس معاہدے کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو یہ محض دو ملکوں کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کیلئے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے واضح مؤقف اس تناظر میں نہایت بروقت اور اہم ہے۔ یہ کہنا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا‘ ایک ذمہ دار ریاست کا آئینی اور بین الاقوامی تقاضا ہے‘ کیونکہ پاکستان کیلئے دریائے چناب اور جہلم محض پانی کے وسائل ہی نہیں زراعت‘ معیشت‘ فوڈ سکیورٹی اور کروڑوں افراد کے روزگار کا انحصار ان پانیوں پر ہے؛ چنانچہ ان دریاؤں کے پانی میں سندھ طاس معاہدے کی کسی شق کی خلاف ورزی یا تکنیکی دھوکا دہی سے بہاؤ کو متاثر کرنے کی کوشش پاکستان کیلئے بقا کا مسئلہ بن سکتی ہے۔ بھارت کی جانب سے ایسے بیانات آنا جن میں معاہدے پر نظرثانی یا اس کی معطلی کا تاثر دیا جاتا ہے‘ نہ صرف بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں بلکہ خطے میں اعتماد سازی کے عمل کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو سرخ لکیر اور اس کی خلاف ورزی کو اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے۔ پانی کی اہمیت کے پیش نظر پاکستان کی یہ واضح پوزیشن بالکل جائز اور ہر قسم کے شک و شبہے سے بالاتر ہے۔ پانی کی اہمیت میں دو رائے نہیں اور جب بات پانی کے کلیدی وسائل کی ہو تو اس میں کسی فریق کو ڈنڈی مارنے یا دھونس کا مظاہرہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ مودی سرکار کی جانب سے دریائی پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے کا عمل باعثِ استعجاب ہے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلی‘ آبی قلت اور آبادی میں تیز رفتار اضافے جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ سندھ طاس معاہدہ ان مسائل کے حل کیلئے ایک مؤثر فریم ورک فراہم کرتا ہے بشرطیکہ اسے اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جائے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس معاہدے کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے تحفظات اٹھائے ہیں‘ چاہے وہ کشن گنگا یا رتلے جیسے منصوبوں کا ہی معاملہ ہو۔ عالمی ثالثی اور قانونی فورمز سے رجوع کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان تصادم نہیں بلکہ قانون اور اصولوں کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔

علاقائی استحکام کا تقاضا ہے کہ پانی کا مسئلہ کسی صورت جنگی جنون یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ عالمی برادری اور وہ ادارے جو اس معاہدے کے ضامن ہیں‘ کی ذمہ داری ہے کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیں اور معاہدے کی روح کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح‘ قانونی اور اصولی ہے۔ خطے میں امن اور ترقی کو فروغ دینا ہے تو معاہدوں کی پاسداری اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں