کشمیریوں کاحقِ خودارادیت
پانچ جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے اہلِ کشمیر کو آزادانہ اور منصفانہ ریفرنڈم کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی قرارداد منظور کی تھی مگر 77 برس گزر جانے کے باوجود اقوامِ عالم کا کشمیریوں سے کیا گیا یہ وعدہ پورانہیں ہو سکا اور مقبوضہ وادی آج بھی انصاف کی منتظر ہے۔ پانچ اگست 2019ء کو بھارت کی فسطائی مودی سرکار نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے غیر قانونی اقدام سے خطے کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ اگست 2019ء سے اب تک 1048 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا۔ صرف 2025ء کے دوران 84 کشمیریوں کی شہادت اور تقریباً تیس ہزار افراد کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض افواج طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔

آئے روز جعلی پولیس مقابلے‘ گھروں کی مسماری اور پیلٹ گنوں سے شہریوں کا بینائی سے محروم ہونا عالمی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ آج کشمیر سمیت پوری دنیا میں ’یومِ حقِ خود ارادیت‘ اسی امید اور مطالبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ عالمی برادری اپنا وعدہ پورا کرے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ جب تک کشمیر کا مسئلہ منصفانہ طور پر حل نہیں ہو جاتا‘ جنوبی ایشیا کے خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ عالمی برادری کو اب زبانی بیانات سے آگے بڑھ کر بھارت پر انسانی حقوق کی پامالی روکنے اور استصوابِ رائے کیلئے دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔