مہنگائی کاسلسلہ
گزشتہ سال کی طرح نئے سال میں بھی مہنگائی میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق رواں سال کے پہلے ہفتے میں ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 3.20 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران آٹے کی قیمت میں 32فیصد‘ گیس 30فیصد‘ چینی 11فیصد‘ خشک دودھ 10فیصد‘ گوشت 13فیصد‘ سرخ مرچ 12فیصد اور ملبوسات کی قیمت میں 10فیصد اضافہ ہوا ۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے‘ تاہم مہنگائی کا مقابلہ محض انتظامی کارروائیوں سے ممکن نہیں اس کیلئے عوام کی قوتِ خرید کو مستحکم بنانا ہو گا۔

حالیہ ہاؤس ہولڈ اکنامک سروے کے مطابق ملک کی ایک چوتھائی آبادی آمدنی میں کمی‘بے روزگاری اور افراطِ زر میں اضافے کے باعث اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہو چکی ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت مہنگائی کے تدارک کیلئے ایک مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرے۔ گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کیساتھ ساتھ روزگار کے مواقع اور اجرت میں حقیقی اضافہ‘ سماجی تحفظ کے مؤثر نظام اور اشیائے ضروریہ پر سبسڈی کے ذریعے عوام کی معاشی سکت کو مضبوط بنایا جائے۔ قوتِ خرید میں بہتری کے بغیر مہنگائی میں معمولی اضافہ بھی عوام کی زندگیوں کو مشکل میں دھکیلتا رہے گا۔