اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خشک سردی اور وبائی امراض

ملک کے میدانی علاقوں میں سردی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی وائرل انفیکشن اور سردی سے متعلقہ امراض کی شدت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صرف لاہور کے چھ بڑے ہسپتالوں میں گزشتہ ہفتے کے دوران موسمیاتی بیماریوں سے متاثرہ 45 ہزار سے زائد مریض داخل ہوئے۔ بڑے ہسپتالوں میں موسمیاتی بیماریوں سے متاثرہ اوسطاً ہر روز ایک ہزار سے زائد مریض لائے جا رہے۔ کراچی میں بھی سردی کے باعث وائرل انفیکشن اور دل اور فالج کے امراض میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق خشک ہوا سے گلے میں خراش‘ کھانسی اور نزلہ زکام کا خطرہ بڑھ جاتا ہے‘ اس سے بچاؤ کیلئے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی ہدایات کے مطابق ماسک اور نیم گرم پانی کا استعمال کرنا چاہیے جبکہ سردی سے بچائو کیلئے گرم کپڑے‘ دستانے اور ٹوپی کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ بچوں اور بزرگ افراد کے اس موسم میں بیمار ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جبکہ سردیوں میں خون کی شریانیں تنگ ہو جانے سے دل کے دورے اور فالج جیسے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ سانس لینے میں تکلیف یا سینے میں جکڑن جیسی علامات پرفوری ہسپتال جانا چاہیے۔ اینٹی بائیوٹکس ادویات کا از خود استعمال علاج کو مزید پیچیدہ بنا سکتا لہٰذا ادویات ہمیشہ مستند معالج کے مشورے ہی سے استعمال کرنی چاہئیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں