افسوسناک سلنڈر حادثہ
ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اسلام آباد میں ایک شادی والے گھر میں گیس سلنڈر کے دھماکے سے دلہا‘ دلہن سمیت آٹھ افراد جاں بحق اور دس سے زائد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ گھر کا ایک حصہ منہدم ہو گیا جبکہ ملحقہ گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک مگر اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہیں۔ ملک بھر سے آئے روز سلنڈر اور گیس حادثات رپورٹ ہوتے ہیں۔ پنجاب ایمرجنسی سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں صرف پنجاب میں گیس لیکیج اور سلنڈر دھماکوں کے 325 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے۔ اہم بات یہ ہے کہ نصف کے قریب واقعات رہائشی علاقوں میں پیش آئے۔

سلنڈر دھماکے کی عمومی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو پائپ‘ ریگولیٹر یا والو سے گیس کی لیکیج‘ غیر معیاری سلنڈر‘ بے احتیاطی سے سلنڈر کا استعمال‘ گیس لیکیج کی صورت میں بجلی کا بٹن آن کرنا یا ماچس جلانا وغیرہ شامل ہیں۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر عوامی آگاہی کی مؤثر مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر گھر تک سلنڈر کے محفوظ استعمال کا پیغام پہنچ جائے۔ ضروری ہے کہ سلنڈرز کو ہمیشہ ہوا دار جگہ پر رکھا جائے اور استعمال کے بعد ریگولیٹر بند کر دیں۔ عوام کو چاہیے کہ اس معاملے میں حد درجہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں‘ چولہے جلتے مت چھوڑیں اور رات کو گیس کنکشن لازمی بند کردیا کریں۔فائبر سلنڈر اور معیاری پائپ اورریگولیٹر کے استعمال سے بھی سلنڈر کے محفوظ استعمال کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔