اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پاکستان کا غیر متزلزل عزم

پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ صومالیہ کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کو یکسر مسترد کیا جائے۔ جدہ میں او آئی سی ممالک کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا کہ ’صومالی لینڈ‘ صومالیہ کا غیر متنازع اور اٹوٹ علاقہ ہے اور کوئی بیرونی ادارہ یا ریاست اس حقیقت کو بدلنے کا قانونی یا اخلاق حق نہیں رکھتی۔ صومالیہ کے اس متنازع علاقے کو گزشتہ ماہ اسرائیل نے الگ ملک کے طور پر تسلیم کیا اور چند روز قبل اسرائیلی وزیر خارجہ اس علاقے کے دورے پر پہنچا اور وہاں کی خود ساختہ حکومت کے سربراہ سے ملاقات کی۔ قرنِ افریقہ میں اسرائیلی دراندازی کے مضمرات کو سمجھنا مسلم ممالک کیلئے مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ صومالیہ کا یہ علاقہ جسے صومالی لینڈ کا نام دیا جا رہا ہے‘ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی آبنائے باب المندب کے ساتھ واقع ہے۔ اسرائیل اس اہم بحری گزرگاہ پر اپنے فوجی اڈے بنانے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے۔ افریقہ کے اس خاص تزویراتی اہمیت کے علاقے میں اسرائیلی موجودگی کے مسلم ممالک کیلئے سنگین اثرات ہوں گے۔ اس میں عسکری اور تجارتی دونوں نوعیت کے خطرات شامل ہیں؛ چنانچہ وزیر خارجہ اسحق ڈار کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ کا ’صومالی لینڈ‘ کا دورہ نہایت تشویشناک ہے۔

انہوں نے اسرائیلی وزیر خارجہ کے دورے کی مذمت کی اور بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھی اس کی مذمت کی تھی۔ او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں بھی اسرائیل کی جانب سے نام نہاد صومالی لینڈکو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔ اسلامی ممالک کی تشویش اور مذمتی قراردادیں نیز اقوام متحدہ کے فورم پر اٹھائی گئی آواز کو درست سمت میں قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ قدم بھی تاخیر سے اٹھا ہے اور بدقسمتی سے ایسی تاخیر اور بہت سے معاملات اور فیصلوں میں بھی موجود ہے جس کے نتیجے میں عالم اسلام کے مسائل میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس صورتحال نے عالم اسلام کے عالمی اثر ورسوخ کو بھی متاثر کیا۔ توانائی اور دولت کے دیگر وسائل سے مالا مال یہ خطے عالمی فیصلہ سازی میں وہ کردار ادا نہیں کر سکے جو ان کا حصہ بنتا ہے۔ ستاون رکنی اسلام تعاون تنظیم مسلم دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہونے کے باوجود مسلم دنیا کے مفادات کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا نہیں کر پائی۔ مسئلہ فلسطین ہو یا مسئلہ کشمیر‘ پون صدی سے مسلم دنیا کے اہم ترین ممالک کیلئے سوہا نِ روح ہیں اور ہر قسم کی دولت اور طاقت سے مالا مال مسلم ممالک عالمی سطح پر ایسا کوئی لائحہ عمل اختیار نہیں کر سکے جو ان مسائل کو منطقی حل تک پہنچانے میں مدد کر سکے۔ اب قرنِ افریقہ پر صہیونی ریاست کی نظر ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ آنے والے وقت میں امن وسلامتی کیلئے سنگین مسئلہ ہو گا۔ صہیونیوں کی اس خطے پر نظر آج سے نہیں طویل مدت سے تھی اور شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ اسی مقصد سے صومالیہ کے اس متنازع حصے کو نام نہاد ’صومالی لینڈ‘ کا نام دیا گیا۔

اگر مسلم دنیا کو اس مسئلے پر آج تشویش لاحق ہوئی ہے تو اسے بروقت قدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بہت پہلے اس کی ضرورت تھی کہ دنیا پر واضح کیا جاتا کہ صومالی لینڈ صومالیہ کا اٹوٹ حصہ ہے اور مسلم ممالک صومالیہ کی خودمختاری‘ وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں‘ اس حقیقت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کی کوئی قانونی یا سیاسی حیثیت نہیں ہو گی۔ اگر وقت پر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ مسلم ممالک اپنے علاقائی اور عالمی اثر ورسوخ اور وزن کو دیکھیں تو آج بھی اس خطرے کا دفیعہ کرنے کے مؤثر اقدامات کئے جا سکتے ہیں جو قرنِ افریقہ میں ابھرتا ہوا صاف دکھائی دیتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں