دہشت گردی کے واقعات
گزشتہ روز ٹانک اور لکی مروت میں پولیس ٹیموں پر بم حملے اور اورکزئی میں امن لشکر پر دہشت گردانہ حملے میں چھ پولیس اہلکار اور دو شہری شہید ہو گئے۔ خیبرپختونخوا میں گزشتہ ہفتے بھی تین جبکہ دسمبر میں چھ پولیس اہلکاردہشت گردانہ حملوں میں شہید ہوئے۔خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع ان دنوں دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ سکیورٹی سے متعلق ایک رپورٹ کے مطابق 2025ء میں دہشت گردی کے واقعات میں 174 پولیس اہلکار شہید ہوئے ‘ان میں سے 150 سے زائد اہلکار خیبر پختونخوا میں شہید ہوئے۔ گزشتہ برس ملک میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں سے 71 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے۔ اگرچہ دہشت گردی کے خطرات کو سرحد پار کی صورتحال سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا لیکن صوبائی اور وفاقی حکومت میں اختلافات دہشت گردوں کا کام آسان بنا رہے ہیں۔

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے یہ ابہام ختم کرنا اور تمام اداروں میں یکسوئی قائم کرنا ضروری ہے۔ریاست کے تمام ادارے یکجان ہو کر دہشت گردی کے خلاف اقدامات کریں تو ہی پائیدارامن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے وفاق اور صوبے کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردوں کو ملک میں کوئی جگہ نہ مل سکے۔دہشت گردوں کے عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے فوری اور یکجہتی کے ساتھ اقدامات وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔