اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سیاسی حالات اور تقاضے

نئے سال کے ساتھ ملک کے سیاسی منظر نامے میں کچھ مثبت تبدیلی کا امکان پیدا ہوا تھا مگر وقت کے ساتھ یہ امید دھندلاتی جا رہی ہے۔ اپوزیشن بدستور عوام کو متحرک کرنے کی سیاست میں مشغول ہے اور حکومت کے لب ولہجے میں بھی کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہو رہی۔ سیاسی جماعتوں میں اختلافات کو رد نہیں کیا جا سکتا مگر اصولی اختلافات کے باوجود سیاسی جماعتیں قومی دائرے میں ایک ساتھ گردش کرنے کی گنجائش پیدا کر لیتی ہیں۔ یہی قومی مفاد کا تقاضا بھی ہے کہ سیاسی قوتیں ٹکراؤ کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ ہو جائیں کہ ان کے اصولی اختلاف سے بھی قومی مفاد کیلئے خیر برآمد ہو۔ یہی خوبی جمہوریت کے استحکام کا باعث بنتی ہے جس کے فوائد سیاسی جماعتوں کو بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ہمارے سیاسی رہنما آزردہ دلی کے ساتھ ملکی سیاسی اور جمہوری تاریخ کو بیان کرتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ ہمارے یہاں جمہوریت کی راہ میں فلاں فلاں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔

ملک میں جمہوریت کو کام کرنے اور اپنی اصلاح کا مناسب موقع نہ مل سکا۔ یہ ساری باتیں بجا ہیں مگر یہ سوال بھی موجود ہے کہ اس کی ذمہ داری سے سیاسی جماعتیں خود کو مستثنیٰ کیسے قرار دے سکتی ہیں؟ ہم ماضی کو تبدیل نہیں کر سکتے؛ البتہ مستقبل کو ماضی سے بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ سیاسی اور جمہوری حوالے سے بات کی جائے تو اس کا پہلا قدم سیاسی مفاہمت کی سنجیدہ کوششوں سے ممکن ہے۔ اس عمل سے فوری نتائج کی توقع نہ بھی ہو کم ازکم ایک دریچہ تو کھلنا چاہیے۔ گزشتہ دنوں اس حوالے سے کچھ مثبت اشارے دیکھنے کو ملے تھے۔ ماضی میں بھی اس حد تک پیشرفت ہوئی‘ مگر بات اس سے آگے نہ گزشتہ سال بڑھ سکی اور بظاہر اب بھی کچھ ایسا ہی نظر آ رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس پیشرفت کیلئے سب سے پہلے اَنا کا بت توڑنا ہوگا۔ حکومت اگر ہاتھ بڑھائے تو یہ اس کے بڑے پن کی علامت ہوگی نہ کہ کمزوری کی کیونکہ اپوزیشن اس وقت مقبولیت کے دعوؤں کے باوجود حکومت پر کسی دباؤ کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی۔

ان حالات میں اگر حکومت کی جانب سے پہل ہو تو زیادہ بہتر ہو مگر اپوزیشن کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ اپوزیشن جلسے جلوس کے بجائے پارلیمانی سیاست کی طرف آئے اور حکومت اپوزیشن کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دہانی کروا سکے تو سیاسی مکالمے کی راہ نکل سکتی ہے۔ اس وقت علاقائی اور عالمی حالات بھی داخلی سیاسی تقسیم کو ہوا دینے کی اجازت نہیں دیتے۔ ملکِ عزیز پہلے ہی دہشت گردی کے سنگین مسائل سے نبرد آزما ہے۔ افغانستان کی جانب سے خطرات لاحق ہیں۔ بھارت معرکہ حق میں شرمناک شکست کے بعد دہشت گرد پراکسیز کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ ایران کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے اور بحیثیت ہمسایہ ملک اس کے مضمرات پر گہری نظر رہنی چاہیے۔ عالمی سطح پر بھی پائیدار امن وامان ایک خواب ہو چکا۔ دنیا مسلسل ایک سے بڑھ کر ایک جنگ میں پھنستی چلی جا رہی ہے اور عالمی امن کیلئے تشویش میں اضافہ بے جا نہیں۔ ان حالات کے دامن میں سے کیسا مستقبل برآمد ہو‘ کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ قومی سطح پر سیاسی اختلافات کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس کیلئے کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی گھاٹے کا سودا نہ ہو گی‘ مگر یہ کہ قوم کو اس بکھیڑے سے نجات مل سکے گی اور حکومت زیادہ توجہ کے ساتھ قومی امور نمٹانے کے قابل ہو جائے گی۔ حکومتی رہنماؤں کی جانب سے رواں سال کے شروع دنوں میں سیاسی مکالمے کا جو عندیہ دیا گیا اور وزیراعظم نے بھی اس کی اجازت دی اور اس حوالے سے کابینہ اجلاس میں اظہارِ خیال کیا‘ امید کی اس کرن کو بجھنے نہ دیا جائے۔ اصولی طور پر اب اپوزیشن کی جانب سے مفاہمتی سوچ کا اظہار ہونا چاہیے تاکہ سیاسی انتشار کے خاتمے کی امید پیدا ہو سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں