سائبر ہائی جیکنگ
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ملک میں وٹس ایپ اکاؤنٹس کی ہائی جیکنگ کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر الرٹ جاری کیا ہے کہ صارفین وٹس ایپ پر نامعلوم نمبروں سے آنے والے او ٹی پیز‘ کیو آر کوڈزاور فشنگ لنکس پر کلک نہ کریں۔ ان جعلی او ٹی پیز سے جعل ساز صارفین کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کرتے اور انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔ گزشتہ کچھ برسوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں سائبر تھریٹس میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ ایک عالمی سائبر سکیورٹی کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال جنوری تا ستمبر‘ پاکستان میں 53 لاکھ سائبر حملے ریکارڈ ہوئے۔یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر خطرات بڑھ رہے ہیں۔

اگرچہ حکومت عوام میں سائبر حملوں سے بچاؤ کیلئے آگاہی پھیلا رہی ہے لیکن اس کے ساتھ انفراسٹرکچر کی مضبوطی‘ باقاعدہ نگرانی اور سائبر کرائم کی روک تھام کیلئے مزید سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ عوام کیلئے بھی حفاظتی تدابیر اپنانا لازم ہے۔ سائبر حملوں سے بچنے کیلئے صارفین کو اپنا او ٹی پی یا بینک پن کسی سے شیئر نہیں کرنا چاہیے‘ کسی بھی غیر فشنگ لنک پر کلک نہیں کرنا چاہیے‘ اور واٹس ایپ کی دہری تصدیق کا نظام فعال رکھنا چاہیے۔ سائبر سکیورٹی ملک کی جدید ضروریات میں سب سے اوپر ہے‘ اسے نظرانداز کرنا نہ صرف ذاتی بلکہ قومی ڈیجیٹل سیکٹر کو خطرات میں ڈال سکتا ہے۔