معاشی مسائل کا اعتراف
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا یہ اعتراف کہ کچھ کمپنیاں پاکستان سے جا رہی ہیں اور زیادہ ٹیکس اور انرجی کی بلند قیمتیں کاروبار کیلئے سنجیدہ مسائل ہیں‘ پاکستانی معیشت اور اس کے دیرینہ مسائل کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی معاشی اصلاحات ہی سے ممکن ہے‘ نجی شعبے کو آگے آ کر معیشت میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیر خزانہ نے پائیدار اور دیرپا ترقی کا جو فارمولا بیان کیا ہے اس سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔ ایک جملے میں انہوں نے بڑی معاشی مشکلات کا بھی احاطہ کر دیا مگر سوال یہ ہے کہ اگر اربابِ اختیار کو ان مسائل کا ادراک ہے تو ان کا تدارک کیوں نہیں ہوتا؟ اصلاح کی کوششیں ہوتی کیوں نظر نہیں آ رہیں؟ گزشتہ کئی سالوں سے اعلیٰ حکام غیر مساویانہ ٹیکس نظام اور توانائی کی قیمتوں کو اقتصادی پہیے کی روانگی میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے رہے ہیں اور اصلاحات کا عزم بھی تسلسل سے ظاہر کرتے آ رہے ہیں مگر ابھی تک اصلاحات کی سنجیدہ کوششیں کم از کم ظاہری سطح پر نظر نہیں آ رہیں۔

اگر توانائی کے شعبے کی بات کی جائے تو بجلی کی قیمتوں اور بجلی معاہدوں کا معاملہ قریب سوا دو برس پیشتر نگران حکومت کے دور میں ابھر کر سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد معاہدوں کی ری سٹرکچرنگ اور نئے معاہدوں کی نوید بھی سنائی گئی مگر عملی سطح پر ابھی تک کوئی بڑا ریلیف نہیں ملا۔ گزشتہ دنوں ہونے والی یکساں ٹیرف اصلاحات کے بعد پاکستان میں کمرشل اور صنعتی صارفین کو بجلی 33سے 46روپے فی یونٹ تک مل رہی‘ جو اس وقت بھی پورے خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ بھارت میں فی یونٹ بجلی 8 سے 10 بھارتی روپے (تقریباً 27 سے 34 روپے) جبکہ بنگلہ دیش میں 10 سے 15 ٹکہ (تقریباً 25 سے 38 روپے) ہے۔ یہی معاملہ گیس کی قیمتوں کا ہے۔ اگر ٹیکسوں کی بات کی جائے تو پاکستان میں 29فیصد کارپوریٹ ٹیکس اور 10فیصد تک سپر ٹیکس صنعتوں پر ان کی استطاعت سے زیادہ بوجھ لاد دیتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ پیداواری سیکٹر مسلسل سکڑتا جا رہا اور انڈسٹری کم ٹیکس ریٹ والے ممالک اور ٹیکس فری خطوں کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
مینوفیکچرنگ سیکٹر کا یہ دعویٰ کہ مجموعی قومی پیداوار میں ان کا حصہ 20فیصد لیکن ٹیکسوں میں حصہ 60فیصد سے زیادہ ہے‘حقیقت سے زیادہ دور نہیں۔ اب وزیر خزانہ نے بھی تسلیم کر لیا کہ ملک میں صنعتیں بند ہو رہیں اور فرمز بیرونِ ملک منتقل ہو رہی ہیں۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ان حالات میں ہم آئی ایم ایف کے شکنجے سے باہر نکل کر معاشی اڑان کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں؟ کیا برآمدات کو چار سال میں دو گنا کر کے 60 ارب تک پہنچایا جا سکتا ہے؟ ہونے کو یہ امر ناممکن نہیں‘ مگر عزم کے ساتھ جن عملی اقدامات کی ضرورت ہے‘ وہ ابھی تک مفقود ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ماضی کی غلط معاشی حکمت عملیوں کی اصلاح کی جائے اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس وقت عالمی منظر نامہ پاکستان کے حق میں ہے‘ دوست ممالک کے ساتھ نئے سرمایہ کاری معاہدے بھی طے پا رہے ہیں مگر اس کے باوجود معاشی جمود ٹوٹنے کو نہیں آ رہا۔
وجہ یہ ہے کہ صنعتی مسائل جوں کے توں ہیں۔ جب توانائی کی قیمتوں میں اعتدال آئے گا‘ ٹیکس کا مساویانہ نظام نافذ ہو گا‘ معاشی ماحول سرمایہ کاری کے لیے سازگار بنے گا تو لامحالہ نئے سرمایہ کار میدان میں اتریں گے۔ اِس وقت بجلی اور گیس کے اونچے نرخوں اور بلند ٹیکس ریٹ کی وجہ سے ہماری صنعتوں کی مسابقتی قوت وہ نہیں رہی کہ عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنا سکیں۔ اربابِ حل وعقد اگر مسائل کا ادراک رکھتے ہیں تو پہلی کوشش ان کے حل کی ہونی چاہیے۔ زبانی بیانات بہت ہو چکے‘ اب عملی اقدامات ہوتے نظر آنے چاہئیں۔