اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آوارہ کتے، بڑھتے خطرات

ملک میں کتے کے کاٹنے کے بڑھتے واقعات فوری حکومتی توجہ کے متقاضی ہیں۔ خبروں کے مطابق گزشتہ برس خیبر پختونخوا میں 87 ہزار سے زائد‘ سندھ میں 42 ہزار سے زائد اور پنجاب میں بھی کتے کے کاٹنے کے ہزاروں واقعات ہوئے۔ گزشتہ برس سندھ میں ریبیز سے 25 اور پنجاب میں آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے ‘ان میں زیادہ تر بچے تھے ۔انسانوں پر کتوں کے بڑھتے حملوں کی بڑی وجہ آوارہ کتوں کی آبادی میں خوفناک اضافہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 30لاکھ سے زائد آوارہ کتے ہیں جن کی آبادی میں اضافے کی روک تھام کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔کتوں کی بڑھتی آبادی حکومتی اداروں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ماضی میں بلدیاتی ادارے کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے ان کی تلفی کے اقدامات کرتے تھے‘ عالمی سطح پر بھی یہی طریقہ کار رائج ہے مگر ہمارے ہاں برسوں پہلے ان اقدامات کو ترک یا محدود کر دیا گیا۔

ضروری ہے کہ آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسی نیشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کی آبادی میں کمی آئے اور ریبیز کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہو۔ ساتھ ہی ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ریبیز ویکسین کی مسلسل اور فوری دستیابی یقینی بنائی جائے تاکہ کتے کے کاٹے کے مریض بروقت اور مؤثر علاج حاصل کر سکیں۔ ضروری ہے کہ حکومت‘ ضلعی انتظامیہ اور صحت کے ادارے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت فوری اقدامات کریں۔ ورنہ ہر گزرتا دن مزید انسانی جانوں کا ضیاع اور معاشرتی تشویش بڑھانے کا باعث بنے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں