ماحول دوست ٹرانسپورٹ
حکومت پنجاب نے سرکاری محکموں کیلئے پٹرول اور ڈیزل کے بجائے الیکٹرک یا ہائبرڈ گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ ماحولیاتی تحفظ کی غرض سے کیا گیا ہے جس کے نتائج یقینا مثبت ہوں گے تاہم اس غرض سے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ماحول میں کاربن اور نقصان دہ گیسوں کے اخراج کو کم کیا جاسکے۔ اربن یونٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں 43فیصد فضائی آلودگی کی ذمہ دار ٹرانسپورٹ ہے۔ لاہور میں یہ شرح 83فیصد ہے‘ جس میں 69فیصد حصہ موٹر سائیکلوں اور ٹُو سٹروک رکشوں کا ہے۔ سرکاری اداروں میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کا اقدام خوش آئند‘ لیکن سب سے زیادہ آلودگی پیدا کرنیوالے موٹر سائیکل اور رکشوں کو گرین انرجی پر منتقل کیے بغیر ماحول میں دھوئیں کی مقدار میں خاطر خواہ کمی ممکن نہیں ۔

گزشتہ دو عشروں میں بڑے شہروں میں فضائی آلودگی میں کمی کیلئے موٹر سائیکل اور ٹُو سٹروک رکشوں پر مختلف پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں مگر عملی طور پر یہ رکشے آج بھی ملک بھر میں چل رہے ہیں۔ اس حوالے سے عوام میں آگہی پھیلانا بھی بہت ضروری ہے تاکہ شہری ذاتی اور پبلک ٹرانسپورٹ دونوں سطحوں پر ماحول دوست انتخاب کو ترجیح دیں۔ طویل مدتی کامیابی کیلئے حکومت کو جامع منصوبہ بندی‘ ٹریفک ریفارمز اور پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسی صورت میں پنجاب دوسرے صوبوں کیلئے رول ماڈل بنتے ہوئے ایک صاف‘ جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کی جانب حقیقی قدم بڑھا سکے گا۔